رسائی کے لنکس

logo-print

'ٹرمپ کا مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان طالبان کے لیے بھی حیران کن'


فائل فوٹو

افغان طالبان کے ترجمان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان امن مذاکرات منسوخ کرنے کے اعلان کو حیران کن قرار دیا ہے۔

قطر میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے جمعرات کو قطری ٹی وی چینل 'الجزیرہ' کو انٹرویو میں بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت مکمل ہو گئی تھی اور صرف امن معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے۔

صدر ٹرمپ نے بات چیت منسوخ کرنے کا اعلان گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد کیا تھا جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی طالبان کے نمائندوں اور افغان صدر اشرف غنی سے کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ الگ الگ ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی تھیں۔

الجزیرہ سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے صدر ٹرمپ کی جانب سے طالبان نمائندوں کو ملاقات کی دعوت ملنے کی تصدیق کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ ملاقات امریکہ سے امن معاہدے طے پانے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔

سہیل شاہین نے کہا کہ انہوں نے اس بارے میں امریکی عہدیداروں کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔

رواں ہفتے اپنے ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ (طالبان) یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو ہلاک کر کے وہ بات چیت میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول "آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے بات چیت ختم کر دی گئی ہے۔"

طالبان کے ترجمان کے بقول صدر ٹرمپ کی طرف بات چیت منسوخ کرنے کا اقدام ان کے لیے حیران کن ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بات حیران کن تھی کیونکہ ہم نے پہلے ہی امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ امن معاہدے پر بات چیت مکمل کر لی تھی۔

امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مذاکرات کے نو ادوار ہوئے ہیں جن میں فریقین کے مطابق بیشتر اختلافی امور طے کرلیے گئے تھے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے بھی متعدد بار یہ اعلان کیا تھا کہ امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

گزشتہ لگ بھگ ایک سال سے جاری مذاکرات کا محور چار معاملات تھے۔ جن میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلا، بین الافغان مذاکرات، مستقبل میں جنگ بندی اور کسی شدت پسند گروہ کو افغان سرزمین استعمال کرکے کسی اور ملک پر حملہ کرنے کی اجازت نہ دینے کے نکات شامل تھے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان نے امریکی نمائندوں کے ساتھ جاری مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق نہیں کیا تھا۔

ان کے بقول غیر ملکی افواج کے انخلا کا معاہدے طے پانے کے بعد طالبان دیگر افغان دھڑوں کی ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے اور اگر ان کے مابین جنگ بندی پر اتفاق ہوتا ہے تو وہ افغانستان میں حملے بند کر دیں گے۔

سہیل شاہین نے واضح کیا کہ طالبان کا امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ طے ہونے کے بعد وہ امریکی فوج کو افغانستان سے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے پر تیار تھے۔ ان کے بقول اگر امن معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو وہ اب بھی امریکی فوج کو محفوظ راستہ دینے پر تیار ہیں۔

ان کے بقول "اگر معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو پھر یہ ہماری ذمہ داری ہو گی کہ ہم ان پر حملے نہ کریں اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں۔"

افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر امن معاہدے پر دستخط کے بغیر فوجی انخلا ہوگا تو پھر طالبان خود یہ طے کریں گے کہ فورسز پر حملے کیے جائیں یا روک دیے جائیں۔

سہیل شاہین نے مزید کہا کہ حملے کرنے یا نہ کرنے کا تمام تر انحصار طالبان پر ہو گا کیونکہ کوئی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔

تاہم سہیل شاہین نے کہا کہ اگر غیر ملکی فوج طالبان پر حملے نہیں کرتی، امریکہ افغانستان سے فوجی انخلا چاہتا ہے اور امن معاہدے پر بھی دستخط کردیتا ہے تو پھر طالبان غیر ملکی افواج پر حملہ نہیں کریں گے۔

لیکن ان کے بقول "اگر بیرونی افواج ہم پر حملہ کرتی ہیں اور بمباری اور رات کے اندھیرے میں کی جانے والی چھاپہ مار کارروائیاں بھی جاری رکھتی ہیں تو پھر طالبان بھی گزشتہ 18 سال کی طرح اپنے حملے جاری رکھیں گے۔"

کیا افغان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں؟

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے جلیل اختر سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات منسوخ کرنے کا تعلق امریکہ کے اندرونی معاملات سے ہے۔ ان کے خیال میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا عمل کچھ عرصے بعد دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

زاہد حسین نے کہا ہے کہ امن مذاکرات دوبارہ وہیں سے شروع ہوں گے، جہاں ختم ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں طالبان اور امریکہ کے درمیان بہت سے معاملات پر اتفاق ہو گیا تھا۔ اب اس معاہدے کے مسوّدے میں مزید کسی چیز کے اضافے کا امکان نہیں ہے۔

زاہد حسین نے کہا کہ البتہ امریکہ طالبان سے ضمانت طلب کر سکتا ہے۔ جنگ بندی اور کابل حکومت سے بات چیت کے معاملات بھی دوبارہ زیرِ غور آ سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG