رسائی کے لنکس

logo-print

مذاکرات منسوخی کے فیصلے پر امریکہ پچھتائے گا: طالبان


فائل فوٹو

طالبان نے دھمکی دی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد وہ امریکی فوجیوں کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو مذاکرات سے منہ موڑنے پر بہت جلد افسوس ہوگا۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس افغانستان میں قبضہ ختم کرنے کے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ جہاد اور لڑائی جب کہ دوسرا مذاکرات اور بات چیت کا ہے۔

طالبان ترجمان کے بقول اگر صدر ٹرمپ مذاکرات کو روکنا چاہتے ہیں تو پھر ہم پہلا راستہ اپنائیں گے جس پر بہت جلد امریکہ پچھتائے گا۔

خیال رہے کہ طالبان کے ترجمان کا بیان امریکی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کو ’مردہ‘ قرار دیا تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے نائب صدر مائیک پینس اور دیگر معاونین کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کے ساتھ امن بات چیت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو کیمپ ڈیوڈ آنے کی دعوت دینا مکمل طور پر اُن کا اپنا فیصلہ تھا اور اسے منسوخ کرنا بھی انہی کا فیصلہ ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو طالبان اور افغان صدر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں الگ الگ ملاقات کرنا تھی جسے انہوں نے منسوخ کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن بات چیت کے دوران طالبان نے حملے جاری رکھے اور جمعرات کو ہونے والے حملے میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا۔ لہذا بات چیت اور حملے ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات 'مردہ' ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بھی کہا کہ امریکہ ایک عرصے سے افغانستان میں تھانیدار کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور یہ ہمارے عظیم فوجیوں کا کام نہیں ہے۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم گزشتہ دس برسوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوں کو پچھلے چار روز کے دوران زیادہ طاقت سے نشانہ بنارہے ہیں۔

اُن کے بقول ہم افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ کام کسی مناسب وقت پر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ لگ بھگ ایک سال سے جاری تھا اور امریکہ کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

اگر صدر ٹرمپ اس مسودے کی منظوری دے دیتے ہیں تو امریکہ افغانستان کے پانچ فوجی اڈوں سے پانچ ہزار فوجیوں کو اگلے 135 دن میں واپس بلا لے گا۔

کشمیر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان دنوں کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع جاری ہے اور وہ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG