رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں داعش نے 20 افراد اور طالبان نے 9 پولیس اہل کار ہلاک کر دیے


فائل فوٹو

داعش کے ایک خودکش بمبار نے منگل کے روز شمالی افغانستان میں دھماکہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے۔ جب کہ جنوبی صوبے ہلمند میں ایک سرکاری کمانڈو یونٹ نے طالبان کی جیل سے 54 لوگوں کو آزاد کر ا دیا۔

جنوبی صوبے قندھار طالبان نے پیر کی رات ضلع ارغستان میں پولیس کی ایک چوکی پر حملہ کیا جس میں 9 پولیس اہل کار ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

صوبائی پولیس کے ترجمان ضیا درانی نے بتایا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع شورش زدہ ضلع ارغستان میں جھڑپ کے دوران 25 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔

افغانستان کو کچھ عرصے سے طالبان اور ملک میں حال ہی میں ابھرنے والے گروپ داعش کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ جب کہ اب واشنگٹن بھی یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ افغانستان میں اپنی طویل فوجی موجودگی ختم کرنے کا ایک راستہ طالبان کے اس مطالبے پر غور کرنا ہے کہ امریکہ ان سے براہ راست مذاکرات کرے۔

قطر میں طالبان کے دفتر کے ایک عہدے دار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ طالبان امریکہ سے براہ راست مذاكرات کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا اور دوسرے معاملات مذاكرات کی میز پر لانے کے لیے تیار ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق افغان صوبے سرپل میں پولیس کے صوبائی سربراہ عبدالقیوم باقیزوئی نے بتایا کہ منگل کا حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب گاؤں کے عمائدین اور طالبان کی ملاقات ہو رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 15 عمائدین جب کہ 5 طالبان عسکریت پسند تھے جن میں ایک ان کا کمانڈر بھی تھا۔

حالیہ عرصے میں طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان شديد جھڑپیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ باقیزوئی نے بتایا کہ ان لڑائیوں میں دونوں جانب سے 100 کے لگ بھگ عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

منگل ہی کے روز ہلمند صوبے کے ضلع موسیٰ قلعہ میں ایک کمانڈو یونٹ نے طالبان کی ایک جیل پر ہلہ بول کر 32 عام شہریوں، 16 پولیس اہل کاروں ،4 فوجیوں اور دو فوجی ڈاکٹروں کو آزاد کرا لیا۔

طالبان کی جانب سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG