رسائی کے لنکس

logo-print

ملا برادر سمیت طالبان رہنماؤں کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات


فائل فوٹو

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان کے وفد نے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان میں قیام امن اور استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی 'آئی آر این اے' کے مطابق، تہران میں طالبان وفد سے ملاقات کے دوران وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے افغانستان کی حکومت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی۔

طالبان ماضی میں کئی بار افغان صدر اشرف غنی سے مذاکرات سے انکار کر چکے ہیں اور وہ اُنہیں امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔

طالبان کے وفد کی ایران آمد اور وزیرِ خارجہ جواد ظریف سے ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ایران نے اس سے قبل ستمبر میں طالبان کے ایک وفد سے اس وقت مذاکرات کیے تھے جب صدر ٹرمپ نے امن مذاکرات کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔

افغان طالبان کے قطر میں موجود سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق، ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں وفد نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں وفود نے افغان مسئلے کے پُرامن حل اور امن عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

سہیل شاہین نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اعلیٰ حکام نے افغان عوام کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور افغان مہاجرین کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

حال ہی میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعے يہ تاثر ديا تھا کہ طالبان سے قيديوں کا تبادلہ افغانستان ميں جنگ بندی کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ افغان حکومت نے رواں ماہ کابل میں امریکی یونیورسٹی کے ایک امریکی اور ایک آسٹریلوی پروفیسر کے بدلے حقانی نیٹ ورک کے تین قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

رہائی پانے والے ان قیدیوں میں حقانی گروپ کے بانی جلال الدين حقانی کے سب سے چھوٹے بیٹے اور موجودہ حقانی گروپ کے سربراہ سراج الدين کے بھائی انس حقانی بھی شامل تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG