رسائی کے لنکس

logo-print

غیر ملکیوں سے متعلق طالبان کی نئی شرائط پر پاکستانی قبائلیوں کو تشویش


فائل فوٹو

طالبان نے افغانستان میں موجود مہاجرین اور عسکریت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو ملک میں سکونت اختیار کرنے کے لیے خود ساختہ قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔ تاہم پاکستان کے قبائلیوں میں اس پر تشویش پائی جاتی ہے۔

افغانستان سے طویل جنگ کے خاتمے کے لیے ہفتے کو دوحہ میں فریقین کے درمیان بین الافغان مذاکرات کا افتتاحی سیشن ہوا جس کے دو روز بعد ہی طالبان نے افغانستان میں مقیم غیر ملکیوں سے متعلق قواعد وضوابط جاری کیے۔

طالبان نے اپنے خودساختہ قواعد میں کہا ہے کہ افغانستان میں مقیم غیر ملکیوں کو افغان طالبان کے اندرونی اور پالیسی معاملات میں مداخلت یا اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہو گی اور اُن پر افغان طالبان کے جنگجوؤں، ذمہ داران اور عہدیداروں کی مکمل اطاعت کرنا لازم ہو گا۔

طالبان کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کے تحت افغانستان میں رہنے والے تمام مہاجرین طالبان کے فراہم کردہ مقامات پر ہی قیام کرنے کے پابند ہوں گے اور اُنہیں بغیر اجازت مقامی افراد اور تنظیموں سے رابطے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔

مذکورہ شرائط کے تحت مہاجرین اور عسکریت پسندوں کو افغان طالبان کے مخالفین کے علاقوں میں آنے جانے کی اجازت نہیں ہو گی اور وہ کسی اور ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ تاہم اُنہیں صرف افغانستان میں 'جہاد' کی اجازت ہو گی۔

طالبان کی جانب سے جاری خود ساختہ قواعد کے مطابق تمام مہاجرین اور جنگجوؤں کے کوائف جمع کر کے اُنہیں کارڈز جاری کیے جائیں گے جن پر ان کی تصاویر اور بنیادی معلومات درج ہو گی۔ ان کارڈز کا اجرا طالبان کی بیعت کرنے سے مشروط ہو گا۔

بظاہر افغان طالبان کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کا مقصد امریکہ اور افغان حکومت کو تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کا یقین دلانا ہے۔

لیکن افغان طالبان کے وضع کردہ قواعد و ضوابط سے متعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

'افغانستان میں مقیم قبائلیوں پر طالبان کے قواعد کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے'

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے افغان طالبان کی شرائط پر کسی قسم کے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ تاہم شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی کامران وزیر اور جنوبی وزیرستان کے ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا ہے کہ افغانستان میں آنے جانے اور افغانستان میں رہنے کے لیے قبائلیوں پر شرائط کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کامران وزیر اور ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز سے قبائل اور افغانستان کے لوگ نہ صرف ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے ہیں بلکہ ان کے درمیان تجارت اور کاروبای تعلقات بھی قائم ہیں۔

ڈاکٹر سید عالم کہتے ہیں کہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کی افغانستان میں رشتہ داریاں ہیں اور ان میں سے بعض کی وراثتی جائیدادیں بھی ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دونوں جانب وہ پشتون قبائل آباد ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ خونی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ ان لوگوں کی دونوں ملکوں میں وراثتی جائیدادیں بھی ہیں۔

پاکستان کے پشتونوں بالخصوص موجودہ قبائلی اضلاع کے بعض افراد افغانستان کی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ رہنماؤں اور سرداروں نے ماضی قریب میں افغانستان کے روایتی تاریخی لویہ جرگہ میں بھی نمائندگی کی تھی۔

سابق سینیٹر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک کا کہنا ہے اس وقت افغانستان میں موجود غیر ملکی دہشت گردوں میں بڑی تعداد پاکستان سے جانے والے عسکریت پسندوں کی ہے۔ افغان طالبان قواعد و ضوابط سے متعلق جو کچھ کر رہے ہیں وہ پاکستان کے دباؤ پر کر رہے ہیں۔

اُن کے بقول طالبان کسی بھی طور پر غیر ملکی دہشت گردوں کو نہ تو افغانستان سے نکلنے دیں گے اور نہ اُنہیں کسی دوسرے ملک میں تخریبی سرگرمیوں سے روکیں گے۔

افرا سیاب خٹک نے کہا کہ 90 کی دہائی کے وسط میں جب افغانستان میں طالبان نے حکومت قائم کی تو اُن کے رہنماؤں نے امریکہ، اقوامِ متحدہ اور دیگر کئی بین الاقوامی تنظیموں اور ملکوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان سے غیر ملکی نکل جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG