رسائی کے لنکس

logo-print

قبائلی اور مذہبی لیڈر طالبان کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں: صدر کرزئی


افغان صدر حامد کرزئی نے جنوبی صوبے قندھار میں اتوار کے روز اپنی ایک تقریر کے دوران سینکڑوں قبائلی اور مذہبی لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کے اس مضبوط گڑھ میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی میں تعاون کریں۔

صدر کی اس اپیل کا بڑے پیمانے پر مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ زیادہ تر حاضرین نے اس وقت کھڑے ہوکر اقرار میں اپنے ہاتھ ہلائے جب افغان صدر نے ان سے یہ پوچھا کہ آیا وہ تقریباً نو برس سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

مسٹر کرزئی ، طالبان شورش کے مرکز قندھار میں فوجوں کے اجتماع کے سلسلے میں مقامی لیڈروں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے خدشات کم کرنے کی کوشش کررہےتھے۔

نیٹو کمانڈر امریکی جنرل اسٹینلے مک کرسٹل،اس دورے میں افغان صدر کے ہمراہ تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس اجلاس کے بعد ان کے حوالے سے بتایا کہ وہ صدر کرزئی کی جانب سے اتحاد کے لیے ایک واضح اور مضبوط اپیل پر مطمئن تھے۔

جنوبی افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ، کیونکہ طالبان نے فوجی آپریشن سے قبل حملے بڑھا دیے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے طالبان کی بڑھتی ہوئی شورش کو کچلنے کے لیے اس سال مزید 30 ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا حکم دیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی واپسی کا عمل اگلے سال جولائی کے وسط سے شروع ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG