رسائی کے لنکس

قندوز میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں


فائل فوٹو

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ سیکیورٹی فورسز یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ طالبان کو پیچھے دھکیل رہے ہیں لیکن یہ چیز واضح ہے کہ یہ ایک بہت مشکل لڑائی ہے کیونکہ قندوز کے زیادہ تر مضافاتی اور دیہی علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

افغان سیکیورٹی فورسز ان طالبان شورش پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہیں جنہوں نے ملک کے شمالی شہر قندوز کی ایک اہم شاہرہ کو بند کر رکھا ہے اور یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ خوف و ہراس پھیلنے سے شہر کی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو سکتی ہے۔

قندوز کے گردو نواح میں کئی دنوں سے شدید لڑائی جاری ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں حالیہ برسوں میں دو بار طالبان قبضہ کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے۔

منگل کے روز سرکاری عہدے داروں نے بتایا کہ طالبان کے مقابلے کے لیے سرکاری کمک بھیج دی گئی ہے اور صوبے کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اسپیشل فورسز کے دستے بھی فوری طور پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان محمد رادمانش نے میڈیا کو بتایا کہ قندوز کے اردگرد افغان فورسز اور طالبان میں جنگ جاری ہے اور یہ کہ شہر کے تین اطراف سے کارروائی کی جا رہی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دشمن سے نمٹنے کی صلاحیت اور قوت موجود ہے۔

طالبان کی جانب سےپچھلے مہینے موسم بہار کے آغاز پر نئی کارروائیاں شروع کرنے کی وارننگ کے بعد بڑے پیمانے پر جھڑپیں جاری ہیں جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ افغان فورسز کے لیے موجودہ سال ایک اور مشکل برس ثابت ہوگا۔

پچھلے سال افغان فورسز کے 6785 اہل کار مارے گئے تھے اور افغان حکومت کا کنٹرول ملک کے محض 60 فی صد علاقے تک محدود تھا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل قریب میں افغانستان سے متعلق امریکی حکمت عملی کے جائزے کے ایک حصے کے طور پر مزید امریکی فوجی اس شورش زدہ ملک میں تعینات کریں گے۔

افغان عہدے دار گذشتہ سال کی صورت حال سے بچنے کے لیے مقامی آبادی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں حالات پوری طرح ان کے قابو میں ہیں ۔ پچھلے سال شہر کے مرکزی حصے پر طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے شہر سے بھاگ گئے تھے۔

جیسے جیسے لڑائی شہرکے مرکزی حصے کے قریب آ رہی ہے، شہریوں کے خوف و ہراس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صوبائی کونسل کے ایک رکن محمد یوسف ایوبی نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ تیسرا موقع ہے کہ حکومت نے لوگوں کو نظر انداز کر کے انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں لڑائی ہو رہی ہے ، وہاں کے لوگ اپنے گھر بار، مال اسباب اور مویشی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ سیکیورٹی فورسز یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ طالبان کو پیچھے دھکیل رہے ہیں لیکن یہ چیز واضح ہے کہ یہ ایک بہت مشکل لڑائی ہے کیونکہ قندوز کے زیادہ تر مضافاتی اور دیہی علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

مشرقی افغانستان کی پولیس کے ترجمان محٖفوظ اکبری نے بتایا کہ دشمن نے ہر جگہ بم نصب کر دیے ہیں جس کی وجہ سرکاری فورسز کو پیش قدمی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم ہائی وے کے کئی حصوں کا قبضہ واپس لے لیا گیا ہے۔

قلعہ ذال کے ایک رہائشی نور محمد نے ٹیلی فون پر بتایا کہ میں نے چار دن پہلے اپنا گاؤں چھوڑ دیا تھا۔ میرا گھراکھلا پڑا ہے اور میرےمویشیوں اور کھیتوں کی رکھوالی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ یا تو حکومت پورے علاقے پر قبضہ کر لے یا اسے طالبان کے ہاتھوں میں دے دے تاکہ ہم سکون سے رہ سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG