رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی طالبان کا سربراہ زندہ ہے؟


سینئر عہدے داروں نے، جو نہیں چاہتے کہ اُن کے نام ظاہر کیے جائیں، جمعرات کےروز کہاہے کہ تازہ ترین اطلاعات سےپتاچلتاہے کہ محسودجنوری میں پاکستان کےقبائیلی علاقے میں بے پائلٹ طیارے یا ڈرون کےحملے میں زخمی ہوگیا تھا، لیکن اُس کی جان بچ گئى تھی

اِن دعووں کے باوجود کہ پاکستانی طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود اس سال کے شروع میں امریکی میزائیل کے کسی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا، پاکستانی انٹیلی جینس کے عہدے داروں کا کہنا کہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے۔

سینئر عہدے داروں نے ، جو نہیں چاہتے کہ اُن کے نام ظاہر کیے جائیں، جمعرات کے روز کہا ہے کہ تازہ ترین اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ محسود جنوری میں پاکستان کے قبائیلی علاقے میں بے پائلٹ طیارے یا ڈرون کے ایک حملے میں زخمی ہوگیا تھا ، لیکن اُس کی جان بچ گئى تھی۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا تھا کہ انہیں 90 فیصد سے زیادہ یقین ہے کہ جنگجو لیڈر ہلاک ہوگیا ہے۔ اور فروری میں پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے بھی کہہ دیا تھا کہ اس بارے میں ”قابلِ یقین“ اطلاع ملی ہے کہ محسود ہلاک ہوگیا ہے۔

طالبان فضائى حملے میں محسود کی ہلاکت کی ہمیشہ تردید کرتے رہے ہیں۔اُنہوں نے اُس حملے کے کئى دن بعد یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے ، اُس کی آواز میں ایک ریکارڈنگ بھی جاری کی تھی۔

پاکستانی انٹیلی جینس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ محسود اگر چہ زندہ ہے ، لیکن پاکستانی طالبان کی تحریک میں اُسے اب کوئى اہم مقام حاصل نہیں ہے۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ ولی الرحمان جیسےطالبان کے دوسرے کمانڈروں نے اب زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔

حکیم اللہ محسو کا پیش رو بیت اللہ محسود اگست 2009 میں مشتبہ طور امریکی ڈرون کے ایک حملے میں مارا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG