رسائی کے لنکس

logo-print

کیا روس طالبان کو جدید آلات اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے؟


فائل فوٹو

کابل میں روس کے سفارت خانے نے ان خبروں کی ترديد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کبھی کوئی جدید اسلحہ طالبان کو فراہم نہیں کیا۔ جبکہ افغان طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی کے آلات انہوں نے میدان جنگ میں افغان فورسز کے قبضے چھینے ہیں۔

شہناز نفیس

جدید الات کے طالبان کے ہاتھوں لگنے کی خبریں کافی عرصے سے ذرائع ابلاغ میں آ رہی ہیں لیکن حال ہی میں طالبان کے پاس سے روسی ساختہ جدید آلات کی برآمد نے افغان حکومت کو اس بارے میں تحقیق پر مجبور کر دیا ہے کہ عسکریت پسند کس طرح یہ جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

گذشتہ ہفتے افغانستان کے صوبہ فرح میں افغان فورسز کے ہاتھوں لگنے والے ان روسی ساختہ آلات کی تفصیلات بتاتے ہوئے، افغان پارلیمنٹ کے ممبر اور سابق سپیکر ، میر وائس افغان نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا کہ ان میں رات کے اندھیرے میں استعمال ہونے والی جدید عینکیں، دوربین ، جدید رائفل اور بناکولر زشامل ہیں جو بظاہر روس میں بنائے گئے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ محض میڈ ان روس کا لیبل روس پر الزام لگانے کے لئے کافی نہیں ہے اور اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ طالبان کو یہ اسلحہ اصل میں کس نے فراہم کیا ہے کیونکہ بقول ان کے اسلحہ بنانے والے اور سپلائی کرنے والے ہمیشہ ایک نہیں ہوتے، اس لئے تحقیقات میں ایران اور پاکستان کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں پختہ یقین پایا جاتا ہے کہ روس ملک کے شمال میں جنگجو کمانڈرز ، طالبان اور دیگر کئی گروپوں کو اسلحہ فراہم کر چکا ہے اور اگر تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ طالبان کو یہ اسلحہ روس فراہم کر رہا ہے تو اس سے نہ صرف روس امریکہ اور روس افغان تعلقات خراب ہوں گے بلکہ اس سے لڑائی طول پکڑے گی، جنگ وسیع تر ہو جائے گی اور طالبان کے ساتھ مذاكرات کے إمكانات بہت کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے ان خبروں کی سختی سے ترديد کی کہ یہ جدید آلات کابل میں موجود بش بازار نامی مارکیٹ سے بھی خریدے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان سے معروف دفاعی تجزیہ گار، ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ رات کے اندھیرے میں استعمال ہونے والے یہ جدید آلات میدان جنگ میں کسی بھی فورس کے لئے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ طالبان کے خلاف جاری جنگ پر ان جدید الات کے اثرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ آلات طالبان یا داعش کے ہاتھوں لگ جائیں یا کوئی دوسرا ملک انہیں فراہم کرے تو اس سے ان گروپوں کی صلاحیت بہت بڑھ جائے گی اور صورت حال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔

ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود نے ایک سوال کے جواب میں کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے درہ آ دم خیل کے علاقے میں اسلحے کے بلیک مارکیٹ موجود ہیں لیکن وہاں ان جدید اور مہنگےجنگی آلات کی دستیابی ممکن نہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں افغان فورسز کے علاوہ کسی اور گروپ کو اسلحہ فراہم کرنا، بین الا اقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

کابل میں روس کے سفارت خانے نے ان خبروں کی ترديد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کبھی کوئی جدید اسلحہ طالبان کو فراہم نہیں کیا۔ جبکہ افغان طالبان کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی کے آلات انہوں نے میدان جنگ میں افغان فورسز کے قبضے چھینے ہیں۔

افغان پارلیمنٹ کے ممبر اور سابق سپیکر ، میر وائس افغان نے بتایا کہ اس بارے میں افغان حکومت کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں لیکن ان کے بقول یہ معلوم کرنا کہ طالبان کو یہ اسلحہ کس نے فراہم کیا ؟ قدرے مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG