رسائی کے لنکس

نئی افغان حکومت امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہے گی، طالبان


طالبان عہدے دار کابل کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے۔31 اگست 2021

طالبان افغانستان پر اپنی مجوزہ حکومت کا اعلان کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ دوستانہ سفارتی رابطے قائم کرنے کے خواہش مند ہیں جس کی بنیاد باہمی احترام پر ہو۔

ثقافتی کمشن کے ایک سینئر عہدے دار بلال کریمی نے اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کے نمائندے ایاز گل کو بتایا کہ حکومت کے اعلان کے لیے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، لیکن یہ اعلان بہت جلد کر دیا جائے گا۔ وہ ان رپورٹس پر بات کر رہے تھے کہ طالبان جمعے کے روز اپنی حکومت کا اعلان کر دیں گے۔

طالبان پر اس وقت بین الاقوامی برادری کی گہری نظر ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق اپنی حکومت میں تمام افغان نسلی گروپوں کو نمائندگی دیں گے اور انسانی حقوق کا احترام کریں گے جن میں خاص طور پر خواتین کے حقوق شامل ہیں، جو ان کے گزشتہ اقتدار کے دور میں سلب کر دیے گئے تھے۔

کریمی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا ان کی حکمرانی کا مجوزہ طریقہ کار دنیا کی قبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جس کی انہیں اشد ضرورت ہے، تو ان کا جواب تھا کہ وہ ایک مضبوط مرکزی، جامع اور پائیدار نظام یا حکومت ہو گی۔ ہمارے پہلے ہی بہت سے ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہمیں کسی مسئلے کی توقع نہیں ہے۔

برطانیہ نے جمعے کے روز یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ طالبان کو ان کی یقین دہانیوں پر جوابدہ ٹہرائے گا اور یہ یقینی بنائے گا کہ وہ اپنے الفاظ پر عمل کریں۔

'افغانستان میں غربت میں اضافہ ہو گا'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:08 0:00

پاکستان میں برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ افغانستان میں نئی حقیقتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ اس ملک کی سماجی اور معاشی بنت میں ٹوٹ پھوٹ ہو۔

انہوں نے کہا اس وقت ہم جو کرنے جا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم طالبان کو ایک حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے، لیکن ان کے ساتھ براہ راست بات چیت میں شامل رہنے کو اہمیت دیں گے۔

کریمی نے میڈیا کی ان رپورٹس کو غلط قرار دیا کہ ان کے گروپ کے سیاسی نائب اور شریک بانی ملا عبدالغنی برادر نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے۔

گزشتہ مہینے کابل پر قبضہ کرنے سے قبل طالبان نے انتہائی برق رفتاری سے صرف ایک ہفتے میں افغانستان کے 34 اضلاع میں سے 33 پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

قدامت پسند گروپ تقریباً 20 سال کے بعد دوبارہ اقتدار میں آیا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2001 میں امریکہ نے نیویارک اور واشنگٹن پر دہشت گرد حملوں کے بعد القاعدہ کو ملک سے بے دخل کرنے سے انکار کے بعد حملہ کر کے طالبان کی حکومت ختم کر دی تھی۔

امریکہ اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے طالبان کے مستقبل کے طرز حکومت کے پیش نظر افغانستان کی مالی مدد کے پروگروم روک دیے ہیں۔

جنگ سے متاثرہ اور غربت میں دھنسے ہوئے ملک افغانستان کو کئی مشکلات کا سامنا ہے جس میں انسانی اور معاشی بحران بھی شامل ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن افغانستان کے لوگوں کو انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے؛ جب کہ طالبان کو تسلیم کرنے کا انحصار اس پر ہے کہ افغان حکومت مستقبل میں کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔

کریمی مستقبل میں کابل کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ اچھے سفارتی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات رکھنے کی خواہش مند ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG