رسائی کے لنکس

'طالبان' کی دھمکی، اعتزاز حسن کے خاندان کا سکیورٹی دینے کا مطالبہ


اعتزاز حسن (فائل فوٹو)

اعتزاز کے بڑے بھائی مجتبیٰ حسن نے بتایا کہ تین اپریل کو اُنھیں دھمکی آمیز خط ملا تھا اور چھ اپریل کو انہوں نے پولیس میں اس کی رپورٹ درج کرائی تھی لیکن ابھی تک انہیں کوئی سکیورٹی نہیں ملی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں جنوری 2014ء میں اپنے اسکول پر ایک خودکش حملے کو ناکام بنانے والے طالب علم اعتزاز حسن کے خاندان کا کہنا ہے کہ اُنھیں طالبان کی طرف سے دھمکی ملی ہے۔

ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں اپنے اسکول کی طرف بڑھنے والے خودکش حملہآور کو اعتزاز حسن نے روکنے کی کوشش کی تھی اور ہاتھا پائی کے دوران دھماکے سے 15 سالہ اعتزاز موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔ لیکن اپنی جان کی قربانی سے اعتزاز نے اسکول کو بڑی تباہی سے بچا لیا تھا۔

خودکش حملہ آور کو اسکول پر حملے سے قبل ہی دبوچ کر اعتزاز حسن نے جس بہادری کا مظاہر کیا اس پر نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس نوجوان طالب علم کو خراج عقیدت تحیسن پیش کیا جاتا رہا ہے۔

اعتزاز حسن کے بڑے بھائی مجتبیٰ حسن بنگش نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اُنھیں ایک خط کی صورت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دھمکی ملی ہے۔

مجتبیٰ حسن کا کہنا تھا کہ تین اپریل کو اُنھیں دھمکی آمیز خط ملا تھا اور چھ اپریل کو انہوں نے پولیس میں اس کی رپورٹ درج کرائی تھی لیکن ابھی تک انہیں کوئی سکیورٹی نہیں ملی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان سے منسوب جو خط اعتزاز حسن کے خاندان کو بھیجا گیا اُس میں یہ تحریر ہے کہ "اعتراز ہیرو نہیں ہے اور میڈیا اُس کی اشتہار بازی چھوڑ دے۔"

خط میں اعتزاز کے بھائی مجتبیٰ کو متبنہ کرتے ہوتے کہا گیا ہے کہ وہ ’’میڈیا اور حکومتی اداروں سے ملنا چھوڑ دے، ورنہ نقصان کا خود ذمہ دار ہو گا۔‘‘

طالبان کی اس دھمکی اور اعتزاز کے خاندان کی طرف سے تحفظ کے مطالبے پر صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ کے مشیر شوکت یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے پہلے ہی اُن کی حفاظت کے لیے کچھ انتظامات کیے گئے ہیں اور اب ’’دھمکی آمیز‘‘ خط کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

’’کل میری انسپکٹر جنرل پولیس سے بات ہوئی تھی تو اُنھوں نے بتایا کہ سکیورٹی تو پہلے ہی ہم فراہم کر چکے ہیں۔ لیکن خطرے کی سطح کو ہم جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر کام ہو رہا ہے کہضلعی سطح پر جو مختلف انٹیلی جنس ایجنسیاں کے حوالے یہ کام کیا گیا ہے۔۔۔۔ تو اس خط کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔‘‘

حکومت پاکستان نے اعتزاز حسن کی بہادری پر انھیں ستارہ شجاعت سے بھی نوازا تھا جب کہ ابراہیم زئی کے سرکاری اسکول کو بھی ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا تھا۔

اعتزاز کے بھائی مجبتیٰ بنگش کہتے ہیں کہ اُنھیں خدشہ ہے کہ طالبان اس اسکول کو پھر نشانہ بنا سکتے ہیں اس لیے اُنھوں نے حکام سے درخواست کی ہے کہ اسکول کی سکیورٹی کو سخت بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اُن کے بقول ابراہیم زئی میں اعتزاز کے نام سے منسوب اسکول میں لگ بھگ ساڑھے چار سو طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

’’اس اسکول کی سکیورٹی بہت ضروری ہے، کیوں کہ دہشت گرد یہاں ناکام ہوئے تو پھر وہ اسکول پر حملہ کریں گے، میں کہتا ہوں کہ اسکول کو محفوظ بنایا جائے۔‘‘

مجتبیٰ حسن کہتے ہیں کہ سلامتی کی خدشات کے سبب اُن کے خاندان کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

مجتبیٰ کہتے ہیں کہ اعتزاز کی موت کے بعد اُن کی زندگی صرف گاؤں کی حد تک محدود ہو گئی ہے اور وہ کہیں آ جا نہیں سکتے۔

خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کے دوران اپنی جان کی قربانی دینے والے اعتزاز حسن کی کوشش کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی سراہا گیا تھا اور اس بارے میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں اور اخبارات میں خبریں اور فیچر شائع ہوئے تھے۔

گزشتہ سال پاکستان کے ایک فلم ساز شہزاد رفیق نے ’’سلیوٹ‘‘ کے نام سے اعتزاز حسن کی زندگی پر فلم بھی بنائی تھی۔

نویں جماعت کے طالب علم اعتزاز حسن چھ جنوری 2014ء کو اسکول کچھ دیر سے پہنچے تھے اور جب اُنھیں اسکول یونیفارم میں ملبوس ایک مشتبہ نوجوان نظر آیا تو اُنھوں نے اس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی اور اس دوران گھبراہٹ میں خودکش حملہ آور نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

انتظامیہ کا اُس وقت کہنا تھا کہ اگر خودکش حملہ آور اسکول پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا تو بڑی تباہی ہو سکتی تھی، کیوں وہاں سینکڑوں طالب علم موجود تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG