رسائی کے لنکس

دوحہ میں امریکہ طالبان مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار


فائل

تشدد کی کارروائیوں میں کمی لانے کے معاملے پر کی وجہ اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن سمجھوتے سے متعلق مسائل کے شکار مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

قطر کی میزبانی میں جاری امن بات چیت میں یہ تازہ ترین تعطل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شدید سرد موسم کے باوجود گزشتہ ہفتے امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کی افواج کے خلاف طالبان کے حملوں میں تیزی آئی۔

تشدد کی ان کارروائیوں میں دونوں فریقین کے درمیان لڑائی میں شامل بیسیوں لوگ ہلاک ہوئے، جب کہ افغانستان بھر میں مزید شہری آبادی کی جان و مال کو نقصان پہنچا ہے۔

طالبان کے مذاکراتی وفد کے ترجمان، سہیل شاہین نے جمعے کے روز وائس آف امریکہ کو بتایا کہ، بقول ان کے، بات چیت کو لاحق تازہ ترین دشواریوں کا ذمہ دار امریکی فریق ہے۔

شاہین کے بقول، ''سمجھوتے پر دستخط کے دنوں کے دوران ہم محفوظ ماحول فراہم کرنے پر رضامند ہیں۔ لیکن، امریکیوں نے مزید کام کرنے کا مطالبہ جاری رکھا ہے۔ اس بات کی وجہ سے امن عمل کی راہ میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں''۔

شاہین بالواسطہ طالبان کی اُس تجویز کا حوالہ دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ہفتے تک تشدد کی کارروائیاں روکی جائیں، تاکہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے جائیں، جس کا طویل مدت سے انتظار ہے۔

دونوں فریق گزشتہ ایک سال سے اس دستاویز پر مذاکرات جاری رکھے ہیں تاکہ 18 برس سے جاری افغان لڑائی بند کی جا سکے جو امریکہ کی طویل ترین جنگ ہے۔

مذاکرات کے بارے میں طالبان کے بیان سے متعلق جمعے کو فوری طور پر امریکہ کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

امریکہ باغی گروپ سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ امن معاہدے پر دستخط سے پہلے تشدد کی کارروائیوں میں ''اہم اور پائیدار'' نوعیت کی کمی لائے۔ لیکن، طالبان مخاصمانہ کارروائیوں میں کمی میں ایک ہفتے سے زیادہ کا اضافہ کرنے کے خلاف ہیں۔

اگر امریکہ اور طالبان امن سمجھوتے پر دستخط کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں افغانستان میں تعینات تقریباً 13000 امریکی فوج کا مرحلہ وار ملک سے انخلا ہو گا۔ اس کے بعد طالبان افغان براہ راست بات چیت بھی ہو سکے گی، تاکہ ملک بھر میں جنگ بندی اور سیاسی شراکت داری سے متعلق معاملات زیر غور آ سکیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی خطے کے لیے اعلیٰ سفارت کار، ایلس ویلز نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ کے مذاکراتی وفد کے سربراہ، زلمے خلیل زاد اور ان کی ٹیم ''طالبان کو باور کرا رہے ہیں کہ وہ تشدد کی کارروائی میں کمی لانے کی یقین دہانی کرائیں، جس سے یہ بات ممکن ہو گی کہ افغان مذاکرات کار میز پر بیٹھ سکیں''۔

دریں اثنا، خلیل زاد نے جمعے کے روز پاکستان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے سول اور عسکری قیادت سے بات چیت کی، جس میں قطر میں طالبان مذاکرات کاروں کے ساتھ ان کی تازہ ترین گفتگو کی تفصیل پیش کی گئی۔

خلیل زاد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستانی فوج کے سربراہ، جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

خلیل زاد کی ملاقاتوں کے بعد، اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے لیے سیاسی تصفیے میں سہولت کاری کا معاملہ زیر غور آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG