رسائی کے لنکس

logo-print

پھانسی دی تو کاروائی کریں گے، طالبان کی دھمکی


اگر قیدیوں کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا تو اسے طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا: تحریکِ طالبان پاکستان

پاکستانی طالبان نےحکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو پھانسی دی تو اسے "اعلانِ جنگ" سمجھا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے افغانستان سے منسلک پاکستان کی قبائلی ایجنسیوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا ہے جس میں حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد سے باز رہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر قیدیوں کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا تو اسے پاکستان مسلم لیگ - نواز کی حکومت کی جانب سے طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد رواں برس جون میں قیدیوں کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا جن کا سلسلہ گزشتہ پانچ برسوں سے معطل تھا۔

حکام کے مطابق حکومت کے اس فیصلے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کی اتحادی کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے شدت پسندوں کو سنائی جانے والی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد عن قریب متوقع ہے جس کے باعث طالبان کی جانب سے مذکورہ دھمکی سامنے آئی ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق سندھ کے شہر سکھر کی جیل میں موجود لشکرِ جھنگوی کے دو شدت پسندوں سمیت سزائے موت کے منتظر چار قیدیوں کو 20 سے 22 اگست کے دوران میں پھانسی دیدی جائے گی۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان اور لشکرِ جھنگوی کے صوبہ پنجاب کی جیلوں میں قید شدت پسندوں کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی جلد متوقع ہے جس نے طالبان کو یہ انتباہ دینے پر مجبور کیا ہے۔

تاحال حکومتِ پاکستان کے کسی ذمہ دار نے طالبان کی اس دھمکی پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تعداد آٹھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں پاکستان کی حکومت سے سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں لیکن پاکستانی حکام ملک میں جرائم اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے اسے ضروری قرار دیتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG