رسائی کے لنکس

logo-print

شام مذاکرات، سیاسی حل کا ’انتہائی اُمید افزا‘ موقع: کیری


ایران کے محمد جواد ظریف اور روس کے سرگئی لاوروف کے ساتھ بالمشافیٰ ملاقاتوں کے علاوہ، شام کے تنازع پر کیری جمعرات کے روز روس، سعودی عرب، ترکی اور یورپی یونین کے دیگر اعلیٰ سفارتی اہل کاروں سے باضابطہ بات چیت کرنے والے ہیں

جمعے کو شام پر بین الاقوامی مذاکرات سے قبل، امریکی وزیر خارجہ جان کیری جمعرات کو ویانا میں اپنے ایرانی اور روسی ہم منصبوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کرنے والے ہیں، جنھیں چوٹی کے امریکی سفارت کار نے ملک کے ’لامتناہی، ہولناک واقعات‘ کے خاتمے کے لیے ایک ’انتہائی اُمیدافزا‘ موقع قرار دیا ہے۔

ایران کے محمد جواد ظریف اور روس کے سرگئی لاوروف کے ساتھ بالمشافیٰ ملاقاتوں کے علاوہ، شام کے تنازع پر کیری جمعرات کے روز روس، سعودی عرب، ترکی اور یورپی یونین کے دیگر اعلیٰ سفارتی اہل کاروں سے باضابطہ بات چیت کرنے والے ہیں۔

جمعے کے روز، اِن ملاقوتوں کی نوعیت وسیع تر ہوجائے کی، جن میں دیگر ملکوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔

اِن مذاکرات کی خاص بات یہ ہے کہ اِن میں نہ تو حکومت شام، نہی وہ گروپ شامل ہوں گے، جو اسد حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔

ادھر، شام کے قومی اتحاد کے رُکن، موافق نرابیہ نے متبنہ کیا ہے کہ اسد کی حماکت کرنے کے باعث سیاسی حل کے سلسلے میں ایران اِن کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایران بھی شام کے مسئلے پر ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں پہلی مرتبہ شریک ہو گا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر خارجہ جواد ظریف اور ان کے تین معاونین ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

کیری نے کہا ہے کہ ہر 20 میں سے ایک شامی ہلاک یا زخمی ہوا ہے اور ہر پانچ میں سے ایک پناہ گزین ہے۔

اس سے قبل، واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک ’کارنیگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ میں خطاب کرتے ہوئے کیری نے کہا کہ امریکہ شام کے مسئلے کے حل کے لیے دو جہتی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

ایک راستہ سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور ویانا میں ہونے والے مذاکرات اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ جان کیری بھی اپنی تقریر کے بعد ان مذاکرات میں شرکت کے لیے ویانا روانہ ہو چکے ہیں۔

اس مسئلے کے حل کا دوسرا راستہ امریکہ کی قیادت میں جاری داعش کے خلاف مہم کو تیز کرنا ہے۔ کیری نے کہا کہ امریکی اتحاد شمالی شام میں اعتدال پسند جنگجوؤں کو ہتھیار فراہم کرے گا، اپنی فضائی کارروائیاں تیز اور داعش کے اہم شہر رقہ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔

اس سے قبل بدھ کو امریکی قانون سازوں نے شام کے مسئلے پر کثیر ملکی مذاکرات کی کامیابی کے امکانات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس مسئلے پر روس، ایران اور امریکہ کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔

سینیٹر باب کروکر نے کہا کہ زمینی حقائق کی موجودگی میں کسی عظیم سفارتی حل کے امکانات مخدوش ہیں۔

کروکر نے روس میں شام کی فضائی کارروائیوں کا ذکر کیا جس میں اس نے امریکہ کے حمایت یافتہ کچھ گروپوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کے باعث کروکر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

کروکر نے ایران اور روس کی جانب سے صدر بشار الاسد کی حمایت کا بھی ذکر کیا جن کے زیراقتدار چار سال سے خانہ جنگی جاری ہے۔

کیری نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگرچہ امریکہ کے روس کے ساتھ وسیع اختلافات موجود ہیں مگر دونوں اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ موجودہ صورتحال بلاجواز ہے اور شام کو صرف ایک سیاسی حل کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔

شام کے مسئلے پر ایران اور امریکہ کے درمیان بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔

ایران کے ایک اہم سکیورٹی عہدیدار علی شام خانی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی تین سال سے اسد حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد کے دورے میں شام خانی نے کہا کہ مغربی طاقتوں کو ان تین سالوں میں صرف پناہ گزینوں کا بحران، دہشت گردی اور شام میں بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی حاصل ہوئی ہے۔

اس موقع پر ایرانی عہدیدار نے پاکستان میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے بارے میں ایرانی مؤقف درست ہے۔‘‘

امریکی سفارت کار اس ہفتے ہونے والے مذاکرات میں کسی واضح نتیجے کی امید نہیں کر رہے۔ ان کا خیال ہے کہ شام کے مستقبل پر مذکرات کے مزید دور ہوں گے۔

ویانا میں قیام کے بعد جان کیری وسطی ایشیا کی ریاستوں کرغزستان، ازبکستان، قازقستان، تاجکستان اور ترکمانستان کا دورہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG