رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس میں معروف مسلم اسکالر کے خلاف جنسی زیادتیوں کا مقدمہ


طارق رمضان فرانس کے ایک مسلم اجتماع میں تقریر کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ایک فرانسیسی جج نے جمعے کے روز سوٹزرلینڈ کے ایک ممتاز مسلم اسکالر طارق رمضان کو جنسی زیادتی کے الزامات میں جیل میں رکھنے کا حکم دیا۔

پچھلے سال دو عورتوں نے الزام لگایا تھا کہ رمضان نے ہوٹل کے ایک کمرے میں سن 2009 اور 2012 میں انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

رمضان کو، جنہیں بدھ کے روز تفتیش کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا تھا، بتا دیا گیا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

سوٹزر لینڈ میں پیدا ہونے والے اسلامی اسکالر نے الزامات کی صحت سے انکار کیاہے۔ انہوں نے پچھلے سال نومبر میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے چھٹی لی تھی جہاں وہ پڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں وہاں بھی جنسی زیادتی کے ایسے ہی الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

مصر کے اسلامی گروپ اخوان المسلیمون کے بانی حسن رمضان کے پوتے طارق رمضان طویل عرصے سے ایک متنازع شخصیت چلے آ رہے ہیں اور اسلام کے حوالے سے ان کی تقریروں پر اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

صدر جارج بش کے دور میں ان کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی جسے صدر براک اوباما کے اقتدار میں اٹھا لیا گیا تھا۔

ہمسایہ ملک سوٹزرلینڈ میں جنیوا کے ایک اخبار کی خبر میں کہا گیا ہے چار جوان خواتین نے کہا ہے کہ جب وہ اسکول میں پڑھتی تھیں اور کم عمر تھیں تو رمضان نے، جو ان کا ٹیچر تھا، ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ان میں سے کم ازکم تین واقعات ایسے تھے جن میں لڑکیوں کی رضامندی شامل نہیں تھی۔

میڈیا کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا ہی دعوی بیلجیم میں بھی کیا گیا ہے۔

مقدمات اور نکتہ چینی کی زد میں آنے والا اسلامی اسکالر رمضان چار بچوں کا باپ ہے اور فرانس میں قیام پذیر ہے جہاں یورپ کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی آباد ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG