رسائی کے لنکس

logo-print

معاشی بحالی پیکیج، مالیاتی منڈیوں کے پُرخطر رویے میں اضافے کاباعث بنا ہے: نگراں ادارے کی رپورٹ


پچھلے بحران کا باعث بننے والے مسائل سے نہیں نمٹا گیا

حکومتِ امریکہ کے ایک غیر جانبدار تفتیش کار کا کہنا ہے کہ 2008ء کے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کے نتیجےمیں زیادہ امکان اِس بات کا ہے کہ ملک آئندہ کسی زیادہ سنگین بحران سے دوچار ہوگا۔

نیل باروسکائی امریکی وزارتِ خزانہ کے مشکلات میں گھِرے اثاثوں کی امداد کے پروگرام (ٹی اے آر پی) میں سپیشل انسپیکٹر جنرل ہیں۔

اتوار کے روز ادارے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں اُنھوں نے کہا کہ پچھلے بحران کا باعث بننے والے مسائل سے نہیں نمٹا گیا ہے۔

کانگریس کے لیے سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارہ قرضہ جات کی فراہمی میں تیزی لانے، گھروں کی قُرقی کو روکنے اور مالی اداروں کو اُن کے غیر ذمہ دارانہ رویےسے باز رکھنے جیسے اہم معاملوں میں ناکام رہا ہے۔ اِن مالی اداروں کے بارے میں عام گمان یہ تھا کہ وہ اتنے بڑے ہیں کہ ناکام نہیں ہوسکتے۔

باروسکائی کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی مالی پروگرام کی مدد سے مالی نظام میں 2008ء کے بحران کو سر کے بل کھائی میں گرنے سے بچا بھی لیا گیا ہو، تب بھی کسی بامعنی اصلاح کی عدم موجودگی کے باعث قدم پھر اُسی طرح کے دشوار گزار پہاڑی راستے کی طرف چل پڑے ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ اب کے سفر تیز رفتار کار میں طے ہو رہا ہے۔


امریکی کانگریس نے 2008ء کے اواخر میں ملک کو کئی عشروں کے بدترین مالی بحران سے نکالنے کے لیے 700ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی منظوری دی تھی۔


اگرچہ متعدد امریکی بینکوں نے ہنگامی قرضہ جات واپس کرنا شروع کر دیے ہیں، بھر بھیعہدے داروں کا خیال ہے کہ مالی پیکیج میں سے 120ارب ڈالر رقم کے ڈوب جانے کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG