رسائی کے لنکس

logo-print

قبائلی علاقوں میں ٹیکس قوانین کے نفاذ کی مخالفت


سوات کا ایک منظر، فائل فوٹو

آرٹیکل 247 کے خاتمے کے بعد نہ  صرف ملک کے تمام قبائلی علاقوں کی  قبائلی حیثیت ختم ہو گئی ہے بلکہ ان علاقوں میں ملک کے مروجہ  قوانین بھی لاگو ہو گئے ہیں۔

قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کے لئے پاکستان کے آئین میں 31 ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 247 کو حذف کر دیا گیا ہے، جس سے وفاقی اور صوبائی انتظام کے قبائلی علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم ہونے کے بعد وہاں ملک کے تمام قوانین نافذ ہو گئے ہیں۔

صوبائی انتظامی قبائلی علاقوں میں مالا کنڈ ڈویژن کے 7 اضلاع بھی شامل ہیں جہاں کئی طبقے ٹیکس اور کسٹم قوانین کے نفاذ کے مخالف ہیں۔

1969 میں مالا کنڈ ڈویژن کے 6 اضلاع پاکستان کے حصہ بنے تھے، جس میں سوات، بونیر، دیر اپر، دیر لوئر، شانگلہ اور چترال شامل ہیں۔

ان علاقوں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے 1973 کے آئین میں انہیں ایک جداگانہ حیثت دیتے ہوئے صوبائی انتظامی علاقہ جات کا درجہ دیا گیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کے سابق صدر افتخار احمد ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 31 ویں ترمیم کے بعد اب ان علاقوں کی جداگانہ حیثیت باقی نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 247 قومی اسمبلی کے قوانین کو براہ راست فاٹا یا پاٹا میں نافذ کرنے کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ قوانین صدر یا گورنر کے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے لاگو ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 31 ویں ترمیم سے اب ملک کے تمام قوانین ان علاقوں میں بھی لاگو ہو گئے ہیں جہنہں فاٹا یا پاٹا کا نام دیا جاتا ہے۔

ہائی کورٹ بار مینگورہ بنچ کے سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے سوات کے سابق حکمران کے زبانی درخواست پر سوات میں ٹیکس اور کسٹم کے قوانین نافذ نہیں کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی یہاں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ برسوں کی چھوٹ کا ائینی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

آئینی ترمیم سے پہلے مالاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ نافذ کیا گیا تھا، جس کے خلاف سوات ٹریڈ فیڈریشن اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد ایکٹ کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔

سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم وفاقی انتظامی علاقوں میں اصلاحات کی حمایت اور ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں لیکن مالاکنڈ ڈویژن کی ایک جداگانہ حیثیت ہے اور یہاں کے عوام دہشت گردی، زلزلہ اور سیلاب کا نشانہ بننے کے بعد اب ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا میں اصلاحات ہونی چاہئیں ، لیکن ہم کسی بھی صور ت اس پر تیار نہیں ہیں کہ ہماری جداگانہ حیثیت کر دی جائے۔

آرٹیکل 247 کے خاتمے کے بعد نہ صرف ملک کے تمام قبائلی علاقوں کی قبائلی حیثیت ختم ہو گئی ہے بلکہ ان علاقوں میں ملک کے مروجہ قوانین بھی لاگو ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG