رسائی کے لنکس

چائے پاکستانیوں کا دل پسند مشروب ہے، گھر ہو یا دفتر، چائے کسی بھی وقت چلے گی۔ پاکستانیوں کو چائے اس قدر پسند ہے کہ گذشتہ چھ ماہ میں بیرون ملک سے 22ارب روپے کی چائے منگوانی پڑ گئی لیکن چائے نوشی کے شوقینوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ کتنے روپوں کی آرہی ہے، انہیں تو صرف چائے ہی چاہیے۔

پاکستانیوں کی چائے سے محبت کو دیکھتے ہوئے ترکی کی وزارتِ غذا، زراعت اور مویشی نے پاکستان کو ملک میں چائے کی پیداوار بڑھانے کی کوششوں کے اعتراف میں چائے تیار کرنے کا ایک خودکار پلانٹ تحفہ میں دیا ہے۔

نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کورپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ سیار حامد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چائے تیار کرنے کا یہ خودکار پلانٹ کراچی پہنچ چکا ہے تاہم اس کو پورٹ سے باہر نکالنے کے لیے کاغذی کارروائی کی جارہی ہے۔

ترکی کی جانب سے موصول ہونے والا پلانٹ روزانہ 400 سے 500 کلو چائے کو پراسس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو آئندہ برس اپریل میں فعال ہوجائے گا۔

چائے کا یہ پلانٹ مانسہرہ کے قریب شنکیاری کے علاقے میں چائے کے باغ میں لگایا جائے گا، یہ باغ 50 ایکڑ سے زائد اراضی پر پھیلا ہوا ہے جو کہ پاکستان کا پہلا چائے کا باغ ہے جہاں کالی اور سبز چائے کاشت کی جاتی ہے۔

نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کورپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پاس چین سے درآمد شدہ ایک پلانٹ موجود ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ایک ٹن کالی چائے جبکہ 100 کلو کے قریب گرین ٹی تیار کرتا ہے۔

چائے کی پتیوں کو پراسیس کیا جا رہا ہے
چائے کی پتیوں کو پراسیس کیا جا رہا ہے

ڈاکٹر فرخ سیار حامد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں زمین کا سروے کیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ضلع مانسہرہ، بٹگرام اور سوات میں تقریباً 1 لاکھ 58 ہزار 1 سو 47 ایکڑ زمین چائے کی پیداوار کے لیے انتہائی مفید ہے تاہم اس زمین کو فی الحال استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

انسٹیٹیوٹ کی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی سروے کیا گیا جہاں چائے کی پیداوار کے لیے زمین کے مفید ہونے کے آثار ملے ہیں لیکن جموں کشمیر کے محکمہ جنگلات نے چائے کے منصوبے کے لیے زمین فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

ڈاکٹر فرخ سیار حامد نے بتایا کہ پاکستان میں چائے کی پیداوار کو فروغ دینے میں سب سے بڑا دھچکا اُس وقت لگا جب سوات میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران علاقے میں 186 ایکڑ اراضی پر پھیلے چائے کے باغات اور ایک پلانٹ تباہ ہوگیا تھا۔

چائے کی تحقیق کرنے والے اس ادارے نے 14 مختلف غیر ملکی چائے کے نمونوں کے ٹیسٹ کیے جن میں 13 ایک جیسے نمونوں کی شناخت ہوئی۔

علاوہ ازیں ادارے نے وادی سرن، کونش اور کنار کے علاقے میں کلسٹر تعمیر کیے جہاں 60 کسانوں کو چائے کی پیداوار کے لیے تیار کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فرخ سیار حامد نے کہا کہ پاکستان میں پیدا کی جانے والی چائے چینیوں کو بہت زیادہ پسند ہے اور ان مصنوعات کو پاک-چین اقتصادی راہداری کے ساتھ استعمال کیے جانے کے امکانات ہیں۔

چائے کے اس تحقیقی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2017 کے پہلے 6 ماہ میں 22 ارب روپے مالیت کی 93 ہزار 500 ٹن کی کالی چائے درآمد کی، جبکہ اسی عرصے کے دوران پاکستان نے 10 کروڑ 60 ہزار روپے مالیت کی 450 ٹن سبز چائے برآمد کی ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 20 سال کے دوران چائے کی درآمدات میں 325 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر فرخ سیار کے مطابق اگر پاکستان میں دو لاکھ ایکڑ زمین چائے کی کاشت کے لیے مل جائے تو ملک کی تمام ضرورت پوری ہوسکتی ہے کیونکہ چائے نوشی کرنے والوں کی تعداد ہر روز بڑھ ہی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG