رسائی کے لنکس

کافی سے چلنے والی بسیں اور خلا سے سمندر کا مشاہدہ


وہ وقت دور نہیں جب آپ اور آپ کی گاڑی دونوں کو صبح صبح دفتر جانے کے لیے کافی کی ضرورت ہوگی۔ کافی فیول کے علاوہ، لندن کے بس سسٹم کی کچھ بسیں کوکنگ آئل اور جانوروں کی چربی سے بنے بائیو ڈیزل سے بھی چل رہی ہیں

کافی پینے کا شوق تو بہت سے لوگ رکھتے ہیں۔ لیکن، اگر آپ کے کافی پینے سے شہر کی بسیں چلنے لگیں؟ ہے نا عجیب سا خیال۔ لیکن، لندن کی ایک کمپنی نے اس عجیب و غریب خیال کو حقیقت بنا دیا ہے، کیونکہ لندن کی بسیں اب استعمال شدہ کافی سے بنے ایندھن پر بھی چل رہی ہیں۔

’بائیو بین‘ نامی کمپنی پورے ملک سے ہزاروں ٹن استعمال شدہ کافی جمع کرتی ہے اور کیمبرج شائر میں واقع اس پلانٹ میں پھر اس کافی سے بائیو فیول بنایا جاتا ہے۔ ’بایو بین‘ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ ٹن استعمال شدہ کافی مل سکتی ہے۔

لندن کے بس سسٹم کی کچھ بسیں کوکنگ آئل اور جانوروں کی چربی سے بنے بائیو ڈیزل سے بھی چل رہی ہیں۔ اور اب ایک تہائی بسیں کافی فیول سے چلیں گی۔ لیکن، بایو بین کی بنیاد رکھنے والے آرتھر کے چاہتے ہیں کہ لندن کی تمام بسیں کافی فیول سے چلیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’کافی دنیا کا سب سے مشہور مشروب ہے اور کئی ملین ٹن استعمال شدہ کافی ہر سال ضائع ہو جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پیسہ بھی کم خرچ ہو اور کاربن ڈائی آکسائید کا اخراج بھی نہ ہو‘‘۔

تو وہ وقت دور نہیں جب آپ اور آپ کی گاڑی دونوں کو صبح صبح دفتر جانے کے لیے کافی کی ضرورت ہوگی۔

دوسری طرف سائنسدان خلا سے سمندر کے اندر چھپی حیات کا مشاہدہ کر رہے ہیں، کیونکہ، ان کا کہنا ہے کہ ہمارے گہرے سمندر اور جھیلیں طرح طرح کی مخلوقات سے بھرے پڑے ہیں۔ ایسے چھوٹے چھوٹے آبی جانور بھی جو انسانی آنکھ کو نظر بھی نہیں آتے۔ تو اُن کے مشاہدہ کے لیے اب ایسی دوربینیں بنائی جا رہی ہیں جو خلا سے سمندر کی تہہ میں موجود زندگی کا سراغ لگا سکیں گی۔ لیکن، خلا سے ہی کیوں؟ اس بات کے جواب میں سمندری حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی ننھی آبی مخلوقات جمگٹھے کی شکل میں رہتی ہیں، جس کا خلا سے مشاہدہ بہتر طور پر ہو سکتا ہے۔ اور سائنسدان سمندر کے بدلتے رنگ سے آبی حیات کی موجودگی کا پتہ چلاتے ہیں۔

ایک آبی مخلوق جس کا پتہ لگانا ضروری ہے وہ ہے ’, 'Phytoplanktonکیونکہ پانی کے تبدیل ہوتے درجہ حرارت اور خوراک کی موجودگی سے یہ نہایت چھوٹي آبی مخلوق ایک جگہ جمع ہوجاتی ہے اور پھر ایک زہریلا مادہ خارج کرتی ہے جو دوسری آبی حیات کے لیئے تو نہیں لیکن انسانوں کے لیئے خطرناک ہوتا ہے۔ خلا سے ان کی موجودگی کا ڈیٹا اس لیے اکٹھا کیا جاتا ہے تاکہ انسانوں کے لیے مچھلیوں اور جھینگوں کی فارمنگ اور شکار کی محفوظ جگہ کا تعین کیا جا سکے اور ساحلوں کو بھی محفوظ بنایا جاسکے۔

اور ’فائیوٹوپلانکٹون‘ نامی یہ چھوٹے چھوٹي آبی پودے زمین پر موجود 50 فیصد آکسیجن پیدا کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ تو اسی لیے سال 2022 میں امریکی خلائی ادارہ ناسا زمین کا مزید گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے لیے جدید کیمروں سے لیس ایک اور سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG