رسائی کے لنکس

logo-print

دور جدید کے ہائی ٹیک ریسٹورنٹ اور روبوٹس


چین کے صوبے ژی جیانگ کے شہر ژیالون کے ایک ریسٹورنٹ میں روبوٹس گاہکوں کے لیے کھانا لے جا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ٹیکنالوجی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے تجربے کو کس طرح بدل رہی ہے اور روبوٹس ہمارے مستقبل کا ایک لازمی حصہ کیسے بنتے جارہے ہیں؟ یہ ہیں موضوعات آج کے ٹیکنالوجی ٹچ کے۔

ریستواں میں آپ کھانا آرڈر کرنے سے پہلے ہی کھانے کی ایسی تصویر دیکھ سکیں جس سے بھوک اور بھی بڑھ جائے ۔اور آپ کے لیے کھانا کوئی ویٹر نہیں بلکہ روبوٹ لے کر آئے۔ ہے نا کسی سائنس فکشن فلم کا سین۔یہ فکشن حقیقت بن رہی ہے۔

آپس کی بات ہے کھانا آرڈر کرنا بھی ایک آرٹ سے کم نہیں، صرف مینو کو پڑھ کر یا اس کی تصویر دیکھ کر آپ یہ طے نہیں کر پاتے کے کھانا میں کیا منگوایا جائے۔ تولیجیے نیویارک ایک ریستوارنٹ نے آپ کی مشکل ہی آسان کر دی۔ اب آپ کھانے کو ہر اینگل سے دیکھ پرکھ کر آرڈر کر سکتے ہیں، کیونکہ مینیو اب تھری ڈی میں جو موجود ہے، اور وہ بھی آپ کے کھانے کے ٹیبل پر۔ لیکن کیسے؟

سب سے پہلے کھانے کی تھری ڈی تصویریں لی جاتی ہیں ۔کئی مختلف اینگلز سے اور پھر انھیں ایک ایپلی کیشن کے ذریعے ایک دوسرے میں ضم کرکے ٹیبل پر منعکس کر دیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والے ریستورانٹ کے مالک کائم امیت کا کہنا ہے کہ جب سے انھوں نے یہ تھری ڈی مینیو استعمال کرنا شروع کیا ہے ان کی سیل 22 فیصد بڑھ گئی ہے۔ جبکہ گاہکوں کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا لگتا ہے جسے اصلی کھانا ان کے سامنے ہے۔

اور تو اور ڈیجیٹل مینیو کے ساتھ اب ویٹر بھی ڈیجیٹل ۔۔ یعنی روبوٹس ۔

بھارتی شہر چنائی میں ’’ روبوٹ ریسٹورنٹ‘ میں روبوٹس نا صرف کھانا پیش کرتے ہیں بلکے ٹیبل سے خالی برتن واپس کچن میں بھی لے جاتےہیں۔ اور کھانا آرڈر کرنےکے لیے بھی آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ٹیبل پر ایک فون ٹیبلیٹ موجود ہے ، اپنی پسند کا کھانا آرڈر کریں، اور ایک روبوٹ تھوڑی دیر میں آپ کےلیے کھانا لے کر حاضر ہو جائےگا۔ کسٹمرز نا صرف اس سروس کو پسند کررہے ہیں بلکے وہ روبوٹس کے ساتھ سیلفیاں بھی لیتے ہیں۔ ویسے ریستورانٹس میں روبوٹ ویٹرز کا آئیڈیا نیا نہیں۔ پاکستان کے شہر ملتان سمیت دنیا میں کئی ملکوں میں ریستورانٹس میں روبوٹس متعارف کروائے گئے ہیں ۔

روبوٹس کی بات چل نکلی ہے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں روبوٹس بہت سے دوسرے شعبوں میں بھی نظر آئیں گے ۔ جیسے جاپان میں ہونے والی روبوٹس کی ایک نمائش میں ایسا روبوٹ پیش کی گیا ہے جو انسانی حرکت کی نقل کرتا ہے اور روبوٹ کو کنٹرول کرنے والا ، کہیں سے بھی، ایک خاص عینک کی مدد سے روبوٹ کے سامنے کی چیزیں دیکھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹس نا صرف گھروں اور ہسپتالوں میں معمر افراد کی نگہداشت کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے بلکے قدرتی آفات کے بعد ریلیف کے کام اور خلا میں بھی انسانی مشنز میں مددگار ثابت ہو سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG