رسائی کے لنکس

logo-print

کشتی کا سفر، درپیش مسائل ہوش اُڑانے والے تھے: نو عمرامریکی ملاح


جمعرات کے روزسمندر کی بلند لہروں نے اُن کی کشتی کا بادبان شکستہ کر دیا، جس کے باعث وہ گہرے سمندر میں پھنس کر رہ گئیں

امریکہ کی نوعمرجہازراں کو ہفتے کے روز اُن کی تباہ شدہ کشتی سےبچا لیا گیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ بحرِہند میں تین دِن تک پھنسے رہنا اوسان خطا کرنے والاحادثہ تھا۔

سولہ برس کی ایبی سُندرلینڈ نے بتایا کہ وہ اپنی کشتی ‘وائیلڈ آئیز’ کو دوبارہ نہ دیکھ سکنے کی حقیقت کو بھلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سُندرلینڈ نے فرانس کےمچھلی کے شکار والے بحری جہاز سے اپنا بلاگ شائع کیا، جس نے مشکل کی گھڑی سے اُنھیں نکالا۔

دریں اثنا، سندرلینڈ کے والد، لارینس نے ہفتے کے روز کیلی فورنیا میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ شاید اُن کی بیٹی کو بہت جلد ایک بڑے بحری جہاز میں سوار کرکے ماریشس کے قریب ایک جزیرے پر پہنچادیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کو وہاں سے لانے میں اُنھیں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

جمعرات کے روزسمندر کی بلند لہروں نے اُن کی کشتی کا بادبان شکستہ کر دیا، جس کے باعث وہ گہرے سمندر میں پھنس کر رہ گئیں۔

اُنھوں نے خطرے سے دوچار ہونے کا سگنل دیا ، جس پر ہفتے کو آسٹریلیا نے ایک جہاز بھیجا جس نے اُنھیں تلاش کرلیا۔

آسٹریلیا کے بحری سلامتی کے ادارے نے خبر دی تھی کہ ہفتے کو رات گئے فرانس کےمچھلی کے شکار کے جہاز ‘دے لہ ری یونین’ نے اپنی کشتی بھیج کر سندرلینڈ کو بچا لیا ہے۔

نو عمر جہازراں جنوری میں لاس اینجلس سے روانہ ہوئیں، اِس شوق میں کہ وہ بغیر کہیں رُکےدنیا کے گِرد بحری سفر کرنے والی سب سے کم عمرشخصیت بن جائیں گی۔ لیکن اُن کی امنگیں اُس وقت دھری کی دھری رہ گئیں جب اُنھیں جنونی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں مجبوراً لنگر انداز ہونا پڑا تاکہ اُن کی کشتی کی مرمت کی جاسکے۔ مرمت کے بعد وہ پھر سفر پرچل پڑیں۔


XS
SM
MD
LG