رسائی کے لنکس

نوجوان کرکٹر کی ہلاکت، سامانِ حفاظت پہننے پر زور


پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک مقامی کلب کرکٹ میچ کے دوران 14 اگست کو سر پر گیند لگنے سے نوجوان کھلاڑی زبیر احمد کی موت واقع ہونے کے حادثے کے بعد بین الاقوامی کرکٹرز نے سوشل میڈیا پر جہاں ایک طرف سے واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے وہیں اس بات پر زور دیا ہے کہ کھلاڑی ہمیشہ سامانِ حفاظت پہن کر کھیلیں۔

ادھر پاکستان سپر لیگ کی ایک معروف ٹیم پشاور زلمی نے زبیر احمد کی موت پر دکھ اظہار کرتے ہوئے اُن کے خاندان کی ہر ممکن مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مردان میں دورانِ کھیل سر اور گردن پر گیند لگنے سے زبیر احمد کی ہلاکت کی خبر کرکٹ کے حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی سطح پر ٹیم انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بغیر حفاظتی ’گارڈز اور ہلیمٹ‘‘ میچ نا کروائے جائیں۔


پاکستان کرکٹ بورڑ نے بھی ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ زبیر احمد کی المناک موت اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ ’حفاظتی سامان مثلاً ہیلمٹ کو (دوران کھیل) ہمیشہ پہننا چاہیئے۔‘‘

معروف کمنٹیٹر اور آسٹریلین ٹیم کے سابق کھلاڑی ڈین جونز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ زبیر احمد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔


کرکٹ تجزیہ کار اور کمنٹیٹر احتشام الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’یہ بہت ہی افسوسناک اور دل ہلا دینے والا واقعہ ہے کہ ایک نوجوان لڑکا اپنی جان سے چلا گیا‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہر ٹیم کی مینجمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ حفاظتی گارڈز، خاص طور پر ہلیمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

’’کوئی بھی بلے باز جب بھی بیٹنگ کرنے کے لیے جائے تو منیجر کے لیے یہ لازم کر دیا جائے کہ یقین دہانی کرے کہ اس نے تمام ضروری حفاظتی سامان پہن رکھا ہے۔‘‘

احتشام الحق کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کی اس ضمن میں تربیت بھی ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG