رسائی کے لنکس

نئی نسل پچاس سال پہلے کے مقابلے میں کئی سال پیچھے ہے


بیلا روس کے کیمپ فائر میں نوجوان آگ پر چھلانگ لگائے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جولائی 2017

یہ تو آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آج کے دور کی نسل ماضی کے مقابلے میں بہت تیز اور ذہین ہے۔ اور ان میں کام کرنے کی اہلیت اور صلاحیت زیادہ ہے۔ لیکن ایک حالیہ مطالعاتی جائزے نے اس خیال کو باطل قرار دے دیا ہے۔

حال ہی میں آج کے دور کے ٹین ایجرز اور 70 کے عشرے کے ٹین ایجرز کے درمیان موازنے سے یہ پتا چلا ہے کہ ان شعبوں میں، جس میں نوجوانوں کی دلچسپی ہوتی ہے، آج کے نوجوان، ماضی کے نوجوانوں سے کم از کم تین سال پیچھے ہیں۔

طویل عرصے تک جاری رہنے والے اس جائزے میں ماہرین نے 83 لاکھ سے زیادہ ٹین ایجرز کے طرز عمل ، مشاغل اور مصروفیات سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پرکھ کی۔ ان اعداد و شمار کا تعلق امریکہ میں آباد 7 اہم قوموں سے تھا اور یہ ڈیٹا 1976 سے لے کر 2016 کے عرصے کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔

نئی نسل سے متعلق ایک جریدے ، چائلڈ ڈیولپمنٹ ، میں اس ہفتے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے 13 سے 19 سال کے نوجوانوں کی مصروفیات کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ اپنا وقت کیسے گذار تے تھے۔ اس تجزیے میں جن پہلوؤں کو پرکھا گیا وہ تھا ملازمت کرنا، ڈرائیونگ کرنا، مخالف جنس کے ساتھ دوستیاں کرنا، جنسی تعلق قائم کرنا اور شراب نوشی کرنا۔ ان چیزوں کی جانب امریکی ٹین ایجرز کم و بیش ہر دور میں راغب رہے ہیں۔ امریکی معاشرے میں بھی شادی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے شراب نوشی کی قانوناً ممانعت ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان کے ان میں ملوث ہونے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 70 کے عشرے اور موجودہ دور میں نوجوانوں کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی اعتبار سے بڑے پیمانے پر تبدیلی آ چکی ہے۔

2010 کے عشرے میں ٹین ایجر ز میں معاوضے کے لیے کام کرنے، ڈرائیونگ کرنے، ڈیٹ پر جانے، جنسی تعلق قائم کرنے، الکحل پینے اور والدین کے بغیر باہر جانے کا رجحان 70 کے عشرے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھا۔

یہ تبدیلیاں امریکہ میں رہنے والی کسی ایک نسل یا قوم میں نہیں دیکھی گئی بلکہ اس میں مجموعی طور پر ہر رنگ اور نسل اور جنس سے تعلق رکھنے والے امریکی نوجوان شامل ہیں۔

یہ مطالعاتی جائزہ امریکی ریاست سین ڈیاگو کی سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے تحت کرایا گیا اور اس کی قیادت شعبہ نفسیات کے پروفیسر جین ٹوینگ نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ان دلچسپیوں میں نئی نسل کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں 18 سال کا نوجوان جن سرگرمیوں کی جانب متوجہ ہوتا ہے ،70 کے عشرے میں وہی کام 15 سال کی عمروں کے نوجوان کیا کرتے تھے۔

اس رجحان میں تبدیلی کی وجوہات کے متعلق نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی اور نئی ایجادات کی لہر نے آج کے نوجوانوں کے مشاغل تبدیل کر دیے ہیں ۔ اب ان کا زیاد وقت انٹرنیٹ پر گذارتا ہے۔ اور غالباً بلوغت سے منسلک سرگرمیوں کی جانب رغبت میں کمی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔

نفسیاتی ماہرین کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ اس کلچرل تبدیلی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے نوجوان پر ، جو اس عمر میں عموماً زیر تعلیم ہوتے ، ہوم ورک اور غیر نصابی سرگرمیوں کا اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ ان کے پاس کچھ اور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن یہ طے ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان کے مقابلے میں خطرات اور ذمہ داریاں قبول کرنے سے کتراتا ہے۔

نیویارک کے ہنٹنگٹن ہاسپیٹل میں چیف میڈیکل آفیسر اور بچوں کے أمور کے ماہر مائیکل گروسو کہتے ہیں کہ اس وسیع البنیاد مطالعے کے نتائج ہماری اس عمومی سوچ سے مختلف ہیں کہ آج کے جدید اور پیچیدہ عہد کی نئی نسل کو اپنی عمر سے پہلے بڑا ہونا پڑ رہا ہے۔

زوکر ہل سائیڈ ہاسپیٹل نیویارک کے بچوں کے شعبے کے ڈائریکٹر فارنیری کہتے ہیں نئی نسل کا ایک مثبت پہلو الکحل کا استعمال کی شروعات ماضی کے مقابلے میں تاخیر سے کرنا ہے۔ یہ ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور وہ کئی ایسے مسائل سے بچ سکتے ہیں جن کا سامنا کم عمری میں الکحل کے استعمال سے ہو سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضرورت سے زیادہ وقت انٹرنیٹ پر گذارنا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بچے ٹیلی وژن یا کسی دوسری الیکٹرانک سکرین پر زیادہ وقت گذارنے سے روکیں، انہیں اپنے ساتھ باہر لے کر جائیں، انہیں کتابیں پڑھنے اور اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے پر راغب کریں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG