رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی نژاد برطانوی خاتون پر حکومت ہٹانے کی سازش کا الزام


ایرانی خبر رساں ادارے نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ نازنین زغاری ریٹلکف پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ذرائع ابلاغ اور انٹیلی جنس منصوبوں میں حصہ لیا، جِن کا مقصد ’’خاموشی کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کو ہٹا دینا تھا‘‘

ایران میں زیرِ حراست ایرانی نژاد برطانوی خاتون پر ملکی حکومت گرانے کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ نازنین زغاری ریٹلکف پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ذرائع ابلاغ اور انٹیلی جنس منصوبوں میں حصہ لیا، جِن کا مقصد ’’خاموشی کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کو ہٹا دینا تھا‘‘۔

خبر رساں اداروں نے یہ خبر ایران کے طاقت ور پاسدارانِ انقلاب کے بیان کےحوالے سے بتائی ہے۔

سینتیس برس کی زغاری ریٹکلف کو تین اپریل کو تہران کے ہوائی اڈے سےاُس وقت گرفتار کیا گیا جب ایران میں اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے بعد وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ ملک سے روانہ ہونے والی تھیں۔ پاسداران کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اُنھیں جنوب مشرقی صوبہٴ کرمان کے ایک قیدخانے میں رکھا گیا ہے۔

زغاری ریٹکلف ’تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن‘ کی ایک ملازم ہیں، جو خبر رساں ادارے کا خیراتی ادارہ ہے۔

ایران دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا؛ اور اگر زغاری ریٹکلف کا مقدمہ چلایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اُنھیں ایرانی شہری سمجھا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG