رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: اسیر امریکی صحافی کو وکیل سے ملنے کی اجازت


رضائیاں کے بھائی، علی رضائیاں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی فارسی سروس کو بتایا کہ نو ماہ کی حراست کے دوران حالیہ دِنوں میں پہلی بار جیسن کو اُن کی وکیل لیلہ احسن سے ملنے دیا گیا

جاسوسی کے الزامات میں ایران میں قید ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے نامہ نگار، جیسن رضائیاں کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ بالآخر اُنھیں اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کے کچھ ہی دِنوں بعد اُن کے مقدمے کا آغاز متوقع ہے۔

اُن کے بھائی، علی رضائیاں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی فارسی سروس کو بتایا کہ نو ماہ کی حراست کے دوران حالیہ دِنوں میں پہلی بار جیسن کو اُن کی وکیل لیلہ احسن سے ملنے دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’(لیلہ احسن) کو جج کےچیمبر میں اپنے مترجم اور ساتھ ہی تفتیش کار کے ہمراہ صرف ایک بار ملنے کی اجازت دی گئی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملاقات ایک گھنٹے یا کچھ دیر زیادہ جاری رہی۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ مقدمےکے آغاز سے پہلے پھر اُنھیں ملنے کی اجازت ہوگی۔

انتالیس سالہ رضائیاں اور اُن کی بیوی، یگانے صالحی، جو خود بھی ایک صحافی ہیں، اُنھیں گذشتہ برس جولائی میں گرفتار کیا گیا، جب ایرانی افواج نے اُنھیں اُن کے تہران کے گھر سے گرفتار کیا۔ اِسی دوران، یگانے صالحی کو رہائی دی گئی، لیکن رضائیاں، جو امریکہ و ایران کی دوہری شہریت رکھتے ہیں، گذشتہ نو ماہ سے قید ہیں۔

احسن نے کہا ہے کہ صحافی کا ’اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے‘ اور ’دشمن حکومتوں کے ساتھ سازباز‘ کے الزامات کا سامنا ہے۔

اُن پر داخلی اور بیرونی پالیسی کے بارے میں اطلاعات اکٹھے کرنے اور مخاصمانہ عزائم رکھنے والوں کو فراہم کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے منتظم ایڈیٹر، مارٹن برون کے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ یہ الزامات ’مضحکہ خیز ہیں‘، جن کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سے 20 برس قید ہے۔

علی رضائیاں اور جیسن کے اہل خانہ نے مقدمے کی فوری کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں شواہد درکار ہیں جس سے ہم اپنی صفائی پیش کر سکیں، اور یا بات واضح ہوجانی چاہیئے کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا‘۔

امریکہ حکام نے رضائیاں اور ایران کی قید میں دیگر امریکیوں کی رہائی کا ایران سے بارہا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG