رسائی کے لنکس

logo-print

گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کی منسوخی کے بعد تحریکِ لبیک کی ریلی ختم


تحریک لبیک کے عہدے دار وزیر خارجہ شاہ محمود سے ملاقات کر رہے ہیں۔ 30 اگست 2018

ان خاکوں کے حوالے سے اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کی جانب سے شديد احتجاج اور ردِ عمل کے بعد نیدرلینڈز میں ہونے والا گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے توہین آمیز خاکوں کے مقابلہ کے خلاف لاہور سے شروع ہونے والی ریلی کو اسلام آباد پہنچنے پر وزیر خارجہ سے ملاقات اور ان مقابلوں کے منسوخ ہونے کی خبر ملنے کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ میں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کی منسوخی پر کہا ہے کہ ان سے مستقل چھٹکارہ پانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے پیرافضل قادری کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ’ہالینڈ کے سفیر نے پیغام دیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تاہم گستاخانہ خاکوں کے معاملے کو اب بھی عالمی فورم پر اجاگر کریں گے۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈچ وزیرِ خارجہ کو پاکستانی حکومت اور عوام کے جذبات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقابلوں سے حکومت کا تعلق نہیں، یہ فرد واحد کا کام ہے۔ ہم اس گستاخانہ فعل کی تائید نہیں کرتے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا’ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا، ۔ گستاخیٔ رسول کے معاملے پر حکومت اور تمام مسلمان ایک صفحے پر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی سطح پر اس معاملے کے سفارتی حل کی کوششیں کی گئیں۔ تمام ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا۔ انہوں نے ایکزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی 4 ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔

شاہ محمود نے کہا’ ہم نے ہالینڈ کے وزیرِ خارجہ سے کہا ہے کہ یورپ میں بھی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ بگڑے گا۔

ان خاکوں کے حوالے سے اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کی جانب سے شديد احتجاج اور ردِ عمل کے بعد نیدرلینڈز میں ہونے والا گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ایک یا چند مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا میں رہنے والے ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ ایک مسلمان ملک کی جانب سے سفیر کو بلا کر احتجاج کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کے لوگوں کو ہمارے جذبات کا احساس اور سمجھ نہیں ہے کیونکہ ہم مسلمانوں نے انہیں سمجھایا ہی نہیں ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اپنی بات مغرب کو تب سمجھا سکیں گے جب سب مسلمان متحد ہوں۔ ہم نے ان کو سمجھایا نہیں کہ جس طرح وہ اپنے دین کی طرف دیکھتے ہیں ہم بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نبی کریم ہمارے دلوں میں رہتے ہیں۔ ان کی شان میں گستاخی ہو تو سب مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے لیکن مغرب کے لوگوں کو ہمارے جذبات کا احساس اور سمجھ نہیں ہے کیونکہ ہم مسلمانوں نے انہیں سمجھایا ہی نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مغرب میں اکثریت کو معاملہ کا علم نہیں۔ یہ فتنہ وہاں کے چند لوگ کرتے ہیں۔ ہم احتجاج کریں گے اور مغرب کو اپنا نکتہ نظر بھی سمجھائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی رکن ممالک سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ وہ اس معاملے میں اقوام متحدہ میں ملاقاتیں کریں گے۔ اقوام متحدہ میں او آئی سی کے پلیٹ فارم سے بات کرنے سے معاملہ رکے گا۔

وزیرِاعظم نے اپیل کی کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ساری أمت اوآئی سی کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو۔ اس پلیٹ فارم پر اقوام متحدہ کو یک زبان ہو کر بتایا جائے کہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی سے ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG