رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا کی سب سے طاقت ور دوربین نے سورج میں کیا دیکھا؟


ہوائی میں نصب دنیا کی سب سے بڑی دوربین سے سورج کی تازہ تصویر جس میں تقریباً 30 کلو میٹر کا ٹکڑا دکھایا گیا ہے۔ روشن حصے آگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ 30 جنوری 2020

ہوائی میں نصب کی جانے والی دنیا کی سب سے طاقت ور دوربین سے سورج کی تصاویر حاصل کئی گئیں ہیں، جن میں اس کی سطح پر گیسیں جلنے، شعلے بلند ہونے اور پگھلنے والے مواد کو وضاحت سے دیکھا جا سکتا ہے۔

نصب کی جانے والی اس جدید دوربین کے مرکزی عدسے کا قُطر چار میٹر ہے جو کہ دنیا میں نصب کی جانے والی تمام شمسی دوربینوں میں سب سے بڑا ہے​۔ اس کی مدد سے سورج کے تقریباً 30 کلومیٹر حصے کی تفصیلات بھی معلوم کی جا سکیں گی جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سورج کے چھوٹے حصوں کی تصویریں اتاری گئیں ہیں۔ تاہم، یہ چھوٹے حصے بھی رقبے میں امریکی ریاست ٹیکساس کے برابر ہیں۔ تصویر میں سورج کے اندرونی حصے سے حرارت باہر نکل رہی ہے۔

ان تصویروں میں آگ اور گیسوں کے اوپر اٹھنے کے مقام زیادہ روشن ہیں، جب کہ اس کے اردگرد ہلکے رنگ کی لکیریں وہ ہیں جہاں یہ پلازما ٹھنڈا ہو کر نیچے گر رہا ہے۔

زمین سے سورج کا فاصلہ نو کروڑ 30 لاکھ میل ہے اور اس سے خارج ہونے والی روشنی اور حرارت کی لہریں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میں فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی تقریباً آٹھ منٹ میں زمین تک پہنچتی ہیں۔

نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کی جانے والی تصویروں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ان تصویروں سے 30 مربع کلومیٹر کے علاقے کی تفصیلات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

سائنس دان طویل عرصے سے نظام شمسی کے اس سب سے اہم ستارے کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی دوربینیں بنائی جا رہی ہیں جو سورج کی زیادہ واضح تصویریں اتار سکیں، جس سے انہیں سورج کی سطح پر آنے والے طوفانوں کی شدت، دورانیے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مقناطیسی لہروں اور تابکاری کی پیمائش کرنے میں مدد مل سکے۔

سورج اپنے مدار میں گردش کرنے والے سیاروں کو روشنی اور حرارت فراہم کرتا ہے۔ ہماری زمین میں زندگی کی نمو اور افزائش سورج ہی کی وجہ سے ہے۔

سورج کی روشنی اور حرارت بلا روک ٹوک زمین پر پہنچ جاتی ہے مگر اس سے خارج ہونے والی تابکاری کے زیادہ تر حصے کو زمین کے گرد موجود فضائی غلاف روک لیتا ہے۔ اور زمین اس کے مضر اثرات سے زیادہ تر محفوظ رہتی ہے۔

تاہم، سورج کی سطح پر جنم لینے والے طوفان کسی حد تک زمین پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ مقناطیسی طوفان ہمارے ریڈیائی رابطوں میں خلل ڈالتے ہیں اور بجلی کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ اب چونکہ انسان کا عمل دخل خلا میں بڑھ رہا ہے اور نہ صرف زمین کے مدار میں ان گنت راکٹ اور سیارچے گردش کر رہے ہیں جو کئی شعبوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں، بلکہ اب انسان دوسرے اجرام فلکی پر جانا اور وہاں اپنی کالونیاں قائم کی کوشش کر رہا ہ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے سورج میں اٹھنے والے طوفانوں کی پیشگی اطلاع ہو، تاکہ وہ اس سے بچاؤ کی تدابیر کر سکے، کیونکہ خلا میں سورج سے نکلنے والی مقناطیسی اور تابکار شعاعیں بلا روک ٹوک سفر کرتی ہیں۔

سورج اور اس کے طوفانوں کے متعلق زیادہ ڈیٹا اکھٹا ہونے کے بعد سائنس دانوں کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ سورج کے طوفانوں کے بارے میں بھی اسی صحت سے پیش گوئیاں کر سکیں، جیسے اب وہ موسم اور سمندری طوفان کے متعلق دنوں پہلے خبردار کر دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG