رسائی کے لنکس

logo-print

ورلڈ کپ میں شریک کپتانوں کی کارکردگی پر ایک نظر


دس ٹیموں کے بیشتر کپتان پہلی بار ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کررہے ہیں، صرف تین کپتان ایون مورگن، جیسن ہولڈر اور مشرفی مرتضیٰ اس سے پہلے بھی کرکٹ کے سب سے بڑے مقابلے میں کپتانی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

ورلڈ کپ 2019 میں شریک 10 ٹیمیں جہاں اپنے قابل اعتماد بیٹسمینوں اور بولرز پر انحصار کر رہی ہیں. وہیں ٹیموں کے کپتان بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

کرکٹ مبصرین کے مطابق کرکٹ ورلڈ کپ میں کپتانوں کی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہو گا کہ وہ کس طرح گراؤنڈ میں اپنے کھلاڑیوں کو استعمال کریں گے۔

ان کے مطابق کپتان کا ایک بروقت اور درست فیصلہ جہاں ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے وہیں ذرا سی غلطی بازی بھی پلٹ سکتی ہے۔

کرکٹ ورلڈ میں شریک ہونے والی دس ٹیموں میں سے متعدد پہلی بار اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے ان میں پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی بھی شامل ہیں۔ جبکہ انگلینڈ کے کپتان ایون مورگن، ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر اور بنگلہ دیش کے مشرفی مرتضی گذشتہ ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔

ورلڈ کپ میں اپنی ٹیموں کی قیادت کرنے والے کپتان انفرادی طور پر بھی متعدد مواقعوں پر اپنی ٹیموں کو فتح سے ہمکنار کر چکے ہیں۔

ایرون فنچ : آسٹریلیا
دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے ایرون فنچ کو اکتوبر 2018ء میں ٹیم کی کپتانی سونپی گئی تھی۔ وہ اب تک 18 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔

اُن کی قیادت میں آسٹریلیا نے 10 میچوں میں فتح سمیٹی۔ یوں اُن کی کامیابی کا اوسط تقریباً 56 فیصد ہے۔ جنوبی افریقا کے خلاف ایک میچ کے سوا فنچ نے تمام فتوحات رواں سال حاصل کی ہیں۔

مارچ میں پاکستان کے خلاف سیریز سے قبل وہ بیٹنگ میں زیادہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔ پاکستان کے خلاف انہوں نے دو سنچریاں اسکور کی تھیں۔

ایرون فنچ کو اب ورلڈکپ ٹائٹل کے دفاع کا چیلنج درپیش ہے۔

سرفراز احمد : پاکستان
سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان ٹیم 2017ء میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیت چکی ہے۔ پاکستانی کپتان کی نظریں اب کرکٹ کے سب سے بڑے اعزاز پر لگی ہیں۔ ایونٹ میں تقریباً وہی ٹیم میدان میں اُترے گی جو چیمپئنز ٹرافی کا حصہ تھی۔

ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں سرفراز کی بحیثیت کپتان کارکردگی شاندار ہے۔ ماہرین کے مطابق سرفراز میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان کو ورلڈ کپ جتوا سکیں۔

سرفرار کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے 35 میچز کھیلے ہیں اور 21 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح اُن کی کامیابی کا تناسب 61 اعشاریہ 76 فیصد ہے۔

سرفراز احمد ورلڈ کپ میں کپتانی کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپر اور مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے تاہم حالیہ دنوں میں وہ بیٹنگ کے شعبے میں قابل ذکر پرفارمنس نہیں دے سکے ہیں جو خود اُن کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔

ویرات کوہلی : بھارت
کرکٹ ماہرین ورلڈ کپ 2019ء میں بھارتی کرکٹ ٹیم کو فیورٹس میں شمار کررہے ہیں جس کی وجہ سے کپتان ویرات کوہلی پر اضافی دباؤ ہے۔ کوہلی کی قائدانہ صلاحیتوں میں وقت کے ساتھ ساتھ کافی نکھار آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اُن کی جیت کا اوسط 73 اعشاریہ 88 ہے۔

کوہلی کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے 68 میچز کھیلے ہیں اور 49 میں جیت اُس کا مقدر بنی ہے۔

کوہلی کو کرکٹ کے بڑے ایونٹ میں کپتانی کا تجربہ ہے۔ وہ 2017ء کی چیمپئنز ٹرافی میں بھی بھارت کے کپتان تھے جس کے فائنل میں بھارتی ٹیم کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اب وہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔

ایون مورگن : انگلینڈ

2015ء کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی گروپ مرحلے میں شکست کے بعد ایون مورگن کی قیادت میں انگلینڈ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی بہترین ٹیم بن کر سامنے آیا ہے۔

ایون کی قیادت میں انگلش ٹیم آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر ہے۔

ورلڈ کپ 2019ء میں ہوم گراؤنڈ پر انگلش ٹیم فیورٹ کی حیثیت سے شرکت کرے گی اور پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کا تاج سر پر سجانے کے لئے پُر ُامید ہے۔

مورگن اس وقت جس ٹیم کی قیادت کررہے ہیں وہ ورلڈ کپ میں اُترنے والی اب تک کی سب سے مضبوط انگلش ٹیم قرار دی جارہی ہے۔

مورگن کی قیادت میں انگلینڈ نے 2015ء سے اب تک 76 ون ڈے میچز کھیلے اور 50 اپنے نام کیے، یوں جیت کا تناسب 65 اعشاریہ 78 ہے۔

کین ولیم سن : نیوزی لینڈ
نیوزی لینڈ کی موجودہ ٹیم کے کپتان کین ولیم سن اُس کیوی ٹیم کا حصہ تھے جو 2015ء کے ورلڈ کپ میں پہلی بار فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد رنر اپ رہی تھی۔

برینڈن مک کولم کے بعد ٹیم کی قیادت سنبھالنے والے ولیم سن پر کپتانی کے ساتھ ساتھ کامیاب ترین بیٹسمین ہوتے ہوئے رنز بنانے کی بھی ذمہ داری ہے۔

ولیم سن کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اب تک 65 ون ڈے میچز کھیلے ہیں، 34 جیتے اور 29 ہارے یوں ان کی جیت کا تناسب 53 اعشاریہ نو چھ ہے۔

فاف ڈو پلیسی : جنوبی افریقا
جنوبی افریقا کے فاف ڈو پلیسی دور حاضر کے کامیاب ترین کپتان ہیں۔ اُنہوں نے 30 میچوں میں جنوبی افریقا کی قیادت کی اور صرف 5 میچوں میں شکست ہوئی یوں اُن کی شاندار کامیابیوں کا اوسط 83 اعشاریہ 33 ہے۔

سن 2018ء کے آغاز سے اب تک جنوبی افریقا کو صرف ایک دو طرفہ سیریز میں شکست ہوئی ہے جبکہ پانچ سیریز اس نے اپنے نام کی ہیں۔

مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے ڈوپلیسی کا بیٹنگ اوسط 46 اعشاریہ 54 ہے جو اُنہیں ٹاپ آرڈر میں ٹیم کا اہم اثاثہ بناتا ہے تاہم وہ لوئر مڈل آرڈر میں بھی اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جیسن ہولڈر : ویسٹ انڈیز
ویسٹ انڈیز ٹیم کے موجودہ کپتان جیسن ہولڈر کرکٹ ورلڈ کے ابتدائی دو ایڈیشن 1975ء اور 1979ء جیتنے والی ویسٹ انڈین ٹیم کے کپتان کلائیو لائیڈ سے متاثر ہیں اور لارڈز کے گراؤنڈ پر تاریخ دہرانے کے خواہش مند ہیں۔ اسی گراؤنڈ پر ویسٹ انڈیز نے آخری مرتبہ ورلڈ کپ جیتا تھا۔

ستائس سالہ آل راؤنڈر سب سے کم عمر کپتان کی حیثیت سے ورلڈ کپ 2019ء میں شرکت کریں گے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے 2014ء سے اب تک کوئی دوطرفہ سیریز نہیں جیتی تاہم انگلینڈ کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر پانچ ایک روزہ میچوں کی حالیہ سیریز ڈرا ضرور کی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ورلڈ کپ میں اعتماد کے ساتھ میدان میں اُترے گی۔

دیموتھ کرونارتنے : سری لنکا
ورلڈ کپ 2019ء میں سری لنکا کی ٹیم کئی تجربہ کار کھلاڑیوں نیروشان ڈک ویلا، دنیش چندیمل، اوپُل تھرنگا اور اکیلا دننجایا کے بغیر شرکت کرے گی۔

دیموتھ کرونا رتنے نے 2015ء کے ورلڈ کپ میں ایک میچ کھیلا تھا اور اب وہ ٹیم کی کپتانی کریں گے۔ انہوں نے اب تک ایک روزہ میچوں میں سری لنکن ٹیم کی قیادت نہیں کی ہے۔

کرونا رتنے نے جنوبی افریقا کو حالیہ ٹیسٹ سیریز میں دو۔صفر سے تاریخی شکست دینے والی ٹیم کی قیادت کی تھی، اپنی سرزمین پر سری لنکا نے یہ پہلی ٹیسٹ سیریز جیتی تھی۔

اچھی بیٹنگ تکنیک کے حامل کرونا رتنے اب تک 16 سے بھی کم اوسط سے 17 میچوں میں صرف 190 رنز ہی بناسکے ہیں۔

مشرفی مرتضیٰ : بنگلادیش
بنگلادیش کے سب سے تجربہ کار کرکٹر مشرفی مرتضیٰ دوسری مرتبہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔

ان کی کپتانی میں بنگلادیش کی ٹیم ورلڈ کپ 2015ء کے گروپ اے میں انگلینڈ، افغانستان اور اسکاٹ لینڈ سے بھی اوپر چوتھے نمبر پر آئی تھی لیکن کوارٹر فائنل میں اُسے بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پچھلے ورلڈ کپ میں بنگلادیش نے انگلینڈ کو 15 رنز سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی۔

مشرفی مرتضیٰ 73میچوں میں ٹیم کی کپتانی کر چکے ہیں جن میں 40 میچ جیتے جبکہ 31 میں شکست ہوئی، یوں ان کی جیت کا اوسط 56 اعشاریہ 33 ہے۔

گلبدین نائب : افغانستان
افغانستان کے گلبدین نائب ناصرف ورلڈ کپ میں بحیثیت کپتان ڈبیو کررہے ہیں بلکہ وہ کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ میں پہلی بار اپنی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہر فارمیٹ کے لئے الگ کپتان کے نظام کے باعث نائب کو حال ہی میں اصغر افغان کی جگہ ون ڈے ٹیم کا کپتان بنایا گیا ہے۔

بحیثیت پلیئر نائب نے 52 ایک روزہ میچوں میں 807 رنز بنائے ہیں جبکہ 40 وکٹیں بھی اُن کے کھاتے میں ہیں۔

ماضی میں کپتانی کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے دیکھنا یہ ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں افغان ٹیم کو کہاں تک کامیابی دلوا پاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG