رسائی کے لنکس

انقرہ میں روسی ناظم الامور کو طلب کر ان کو متنبہ کیا گیا کہ اگر دوبارہ ایسا کوئی واقعہ ہوا تو ترکی شامی کرد گروپ کے خلاف کارروائی کرے گا۔

ترکی نے اپنے ایک فوجی اہلکار کی ہلاکت کا ذمہ دار روس کے حمایت یافتہ کرد جنگجو گروپ کو قرار دیتے ہوئے ماسکو سے احتجاج کیا ہے۔

یہ تنازع دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کی کوششوں پر منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انقرہ میں روسی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر ان کو متنبہ کیا گیا کہ اگر دوبارہ ایسا کوئی واقعہ ہوا تو ترکی شامی کرد گروپ کے خلاف کارروائی کرے گا۔

ترک فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحد پار شامی کرد جنگجو گروپ 'وائی پی جی' کے زیر کنٹرول علاقے سے فائرنگ کی وجہ سے ان کا ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا۔

ترکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان حسین مفتو اولو نے معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ ماسکو کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کرے کیونکہ اس کی فورسز کرد زیر کنٹرول علاقے میں موجود ہیں۔

ترک فوج ’وائی پی جی‘ اور اس کے سیاسی شعبے ’پی وائی ڈی‘ پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر کے اُن کے زیر قبضہ علاقے پر اکثر بمباری کرتی ہے۔

ترکی ’وائی پی جی‘ کو شدت پسند کردستان ورکرز پارٹی یعنی 'پی کے کے' کا ہی حصہ سمجھتا ہے۔

رواں ہفتے ہی ترکی کے احتجاج کے باوجود روسی فورسز کو عفرین کے علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG