رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی کو کسی علاقے یا زبان سے ںہ جوڑنے کی قرار داد منظور


شہریار آفریدی کے بقول فرضی کارروائی میں تخریب کاروں ’’کو بطور پشتون دکھایا گیا، ڈراموں میں جب بھی تخریب کار کو دکھایا جاتا ہے اُن کو ایک خاص علاقے اور زبان سے منسلک کیا جاتا ہے، اس لیے میں نے اس معاملے کو اٹھایا۔‘‘

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، مسلک، علاقے یا زبان سے نہیں جوڑا جائے گا۔

یہ قرارداد تحریکِ انصاف کے رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے پیش کی تھی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

شہریار آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اُنھوں نے یہ قرار داد 19 جنوری کو ملتان کے ریلوے اسٹیشن پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے متعلق واقعے کے بعد پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ فرضی کارروائی میں تخریب کاروں ’’کو بطور پشتون دکھایا گیا، ڈراموں میں جب بھی تخریب کار کو دکھایا جاتا ہے اُن کو ایک خاص علاقے اور زبان سے منسلک کیا جاتا ہے، اس لیے میں نے اس معاملے کو اٹھایا۔‘‘

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے قرارداد کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی بھی حوالے سے، کسی بھی سطح پر تخریب کار کے ساتھ کسی مذہب، مسلک، علاقے یا زبان کو نہیں جوڑا جائے گا، کیوں کہ اُن کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کے خلاف سب کو مل کر لڑنا ہے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ متفقہ طور پر اس قرارداد کی منظوری مضبوط وفاق کے لیے بہت اہم ہے۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی مختلف سطحوں پر یہ معاملہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آگاہی کے لیے چلائی جانے والی تشہیری مہمات میں پشتونوں کو دہشت گردوں کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG