رسائی کے لنکس

’دہشت گردوں سے جنگ کے لیے نئے اختیار نامے کی ضرورت نہیں‘


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن، فائل فوٹو

پیر کے روز سماعت کے دوران ری پبلکنز اور ڈیمو کریٹس دونوں نے یہ جواز پیش کیا کہ 16 سالہ جنگی اختیار نامہ دہشت گردی سے مقابلے کی موجودہ لڑائی کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے سینیر عہدیدار کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں دہشت گرد گروپس کے خلاف جنگی کارروائیاں کسی نئے جنگی اختیار نامے کی متقاضي نہیں ہیں۔

امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ اگر کانگریس داعش کے خلاف لڑائی کے لیے طاقت کے استعمال کے کسی نئے اختیار نامے کی منظوری دے دے تو بھی موجودہ اختیار نامہ منسوخ نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بارے میں بنیادی طور پر کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ہم حالات کے مطابق ڈھل جانے والے کسی ایسے دشمن کے خلاف، کسی تنازعے کے بارے میں کوئی ٹھوس نظام الاوقات متعین نہیں کر سکتے جسے یہ توقع ہو کہ ہماری یہ مرضی نہیں ہے کہ ہم اس وقت تک لڑیں جب تک ضروری ہو۔ اس کی بجائے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم مسلسل جھڑپوں کے دور میں رہ رہے ہیں اور ہمارے لیے یہ امکان پہلے سے زیادہ موجود ہے کہ ہم اس لڑائی کو اس صورت میں زیادہ جلدی ختم کر دیں اگر ہم اپنے دشمن کو یہ پتا نہ چلنے دیں کہ ہم لڑائی کب ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ٹلر سن نے مزید کہا کہ کانگریس کو کسی نئے جنگی اختیار نامے کے جغرافیے کو محدود نہیں کرنا چاہے کیوں کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی تیزی سے ایک بر اعظم سے دوسرے براعظم تک منتقل ہو سکتی ہے۔

یہ سماعت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب کانگریس میں بہت سے ارکان نے فوجی طاقت کے استعمال کے لیے ایک نئے اختیار نامے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کےروز سماعت کے دوران ری پبلکنز اور ڈیمو کریٹس دونوں نے یہ جواز پیش کیا کہ 16 سالہ جنگی اختیار نامہ دہشت گردی سے مقابلے کی موجودہ لڑائی کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG