رسائی کے لنکس

کراچی: حالیہ دہشت گردی کے ملزمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، رپورٹس


وزیر اعلیٰ سندھ کے بقول انہوں نے وفاقی حکومت سے انصار الشریعہ سمیت کئی تنظیموں کو واچ لسٹ پر ڈالنے کا کہا تھا لیکن ان کا کہا نہیں مانا گیا۔

کراچی میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث ملزمان کے حوالے سے مقامی میڈیا میں اطلاعات ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور شہر کےبڑے اور اہم ترین تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔

اس بات کا انکشاف عید الاضحی کے پہلے روز متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما اور سندھ کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے دوران مارے جانے والے شخص کی شناخت سامنے آنے پر ہوا۔

حملہ آور کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز ’جیو‘، ایکسپریس‘ اور تقریباً تمام اخبارات و دیگر چینلز کی رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا نام حسان تھا۔ اس نے پی ایچ ڈی کی تھی اور انجینئرنگ یونیورسٹی میں لیکچرار تھا۔

مبینہ طور پر حملے کا ماسٹر مائنڈ عبدالکریم سروش صدیقی تھا جو گلشن کنیز فاظمہ سوسائٹی کا رہائشی تھا۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے اپلائیڈ فزکس ڈپارٹمنٹ میں زیر تعلیم تھا۔

منگل کو اس کے گروپ کے جن دو اور طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے وہ بھی کراچی یونیورسٹی میں اپلائیڈ فزکس کے طالب علم ہیں۔

اسی طرح ایک اور لڑکی نورین لغاری، جس پر داعش کے لئے کام کرنے کا الزام ہے وہ کراچی کی ایک نجی میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی ایک تنظیم سے تعلق رکھنے والے محمد اویس کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی میں لیکچرار ہے۔

روزنامہ’ جنگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نجی کالج کے ہی ایک پروفیسر عادل بٹ بھی کراچی یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں۔

یونیورسٹیز دہشت گردوں کی افزائش گاہ۔۔۔؟؟
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملزمان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے متعلق انکشافات پر سخت حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کہیں یونیورسیٹیز دہشت گردوں کی افزائش گاہ تو نہیں بن گئیں۔ ‘

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالب علموں کا تعلق ’انصار الشریعہ‘ سے تھا جس کے بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ کے بقول انہوں نے وفاقی حکومت سے انصار الشریعہ سمیت کئی تنظیموں کو واچ لسٹ پر ڈالنے کا کہا تھا لیکن ان کا کہا نہیں مانا گیا۔

طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو دیا جائے گا، متضاد اطلاعات
منگل کو دن بھر کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو جانچ کی غرض سے دینے کے فیصلے پر متضاد اطلاعات گردش کرتی رہیں۔

ان اطلاعات میں کہا جارہا تھا کہ طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو دینے کے فیصلے کی منظوری اکیڈمک کونسل سے لی جائے گی۔

کراچی یونیورسٹی کے طلبہ سے مقامی پولیس اسٹیشن کا جاری کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی لینے کی تجویز بھی زیر غور بتائی جا رہی تھی تاہم منگل کی شام کراچی یونیورسٹی کی جانب سے وائس آف امریکہ سمیت دیگر اداروں کو بتایا گیا کہ اس اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG