رسائی کے لنکس

logo-print

ورلڈ ٹیسٹ کرکٹ چیمپین شپ: آسٹریلیا 284 رنز پر آؤٹ


انگلینڈ کے کھلاڑی آسٹریلوی بیٹسمین عثمان خواجہ کے آؤٹ ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آج سے ایشز سیریز کے ساتھ باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ پانچ میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ فیصلہ بظاہر آسٹریلیا کو مہنگا پڑا اور اس کے 8 کھلاڑی محض 122 رنز کے مجموعی سکور پر پیویلین لوٹ گئے۔

آسٹریلیا کی طرف سے سٹیو سمتھ واحد بیٹسمین ہیں جنہوں نے بھرپور انداز میں مزاحمت کرتے ہوئےسنچری بنائی۔ وہ 144 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ وہ آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی تھے۔

آسٹریلیا کی طرف سے سمتھ اور لائن کے درمیان آخری وکٹ کی شراکت میں 74 رنز بنے اور یوں آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگ میں 284 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ کا آغاز تباہ کن رہا اور صرف دو کے سکور پر اوپنر ڈیوڈ وارنر براڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ دوسرے اوپنر بیکرافٹ بھی زیادہ دیر تک کریز پر نہ رہ سکے اور آٹھویں اوور میں براڈ ہی کی گیند پر جو روٹ کو کیچ دے بیٹھے۔ اس وقت آسٹریلیا کا سکور صرف 17 رنز تھا۔

ان کے آؤٹ ہونے کے بعد سمتھ اور عثمان خواجہ نے صورت حال کو قدرے سنبھالنے کی کوشش کی۔ تاہم خواجہ بھی 13 رنز بنا کر ووکس کی گیند پر بیئرسٹو کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ یوں 35 کے سکور پر آسٹریلیا کی تیسری وکٹ گر گئی۔

خواجہ کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹریوس ہیڈ کھیلنے آئے۔ انہوں نے سمتھ کے ساتھ مل کر سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ تاہم جب سکور 99 پر پہنچا تو ہیڈ بھی 35 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ انہیں ووکس نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ ہیڈ اور سمتھ کی شراکت میں 64 رنز بنے۔

ہیڈ کے آؤٹ ہونے کے بعد میتھیو ویڈ بھی ایک رنز بنا پر ووکس کا شکار بنے۔ ٹم پین بھی زیادہ دیر تک کریز پر نہ رہ سکے اور 5 کے انفرادی سکور پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ جیمز پیٹنسن کوئی رنز بنائے بغیر پیویلین لوٹ گئے۔ آؤٹ ہونے والے آٹھویں کھلاڑی کمنز تھے جنہوں نے 5 رنز بنائے۔ کمز کے آؤٹ ہونے کے بعد سڈل اور سمتھ میں 88 رنز کی پارٹنر شپ ہوئی جس نے ٹیم کو بڑی حد تک سہارا دیا۔ سڈل 44 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی وکٹ سپنر معین علی نے لی۔

آخری وکٹ کی شراکت میں بھی 74 رنز کا اضافہ ہوا۔ لائن 12 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ کی طرف سے کرس براڈ سب سے کامیاب بالر رہے۔ انہوں نے 86 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ ووکس نے 3 اور سٹوکس اور معین علی نے ایک ایک کھلاڑی کو پیویلین کی راہ دکھائی۔

آسٹریلیا کے 284 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے پہلے دن کے اختتام پر بغیر کوئی وکٹ کھوئے 10 رنز بنا لیے تھے۔ روری برنز اور جیسن روئے بالترتیب 4 اور 6 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔

یہ کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا پہلا میچ ہے۔ آج یکم اگست سے شروع ہونے والی اس ٹیسٹ چیمپئن شپ کے گروپ مرحلے کے میچ 31 مارچ، 2021 تک جاری رہیں گے اور ان میچوں میں سے دو بہترین ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی۔

اس چیمپئن شپ کے دوران آئی سی سی کے 12 باقاعدہ رکن ممالک میں سے 9 کے درمیان کل 27 سیریز کھیلی جائیں گی۔ ان 9 ٹیموں میں پاکستان سمیت آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ، ساؤتھ افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔ یہ تمام 9 ٹیمیں تین تین ہوم سیریز کھیلیں گی اور اتنی ہی سیریز ملک سے باہر کھیلی جائیں گی۔

آئی سی سی کی باقاعدہ رکن تین دیگر ٹیمیں زمبابوے، افغانستان اور آئرلینڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل نہیں ہیں۔ زمبابوے کی ٹیم پر حکومت کی طرف سے کرکٹ کے معاملات میں مداخلت کے باعث آئی سی سی نے اکتوبر میں پابندی عائد کر دی تھی۔ افغانستان اور آئرلینڈ کو پہلی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم وہ چیمپئن شپ سے باہر دو طرفہ ٹیسٹ سیریز کھیل سکیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG