رسائی کے لنکس

logo-print

نادر صوفی کا بچپن اسلام آباد میں گزرا: رپورٹ


نادر صوفی کے ایک ہم جماعت کے مطابق وہ لڑکیوں میں خاصا مقبول تھا، اس کی والدہ امریکی شہری تھیں لیکن جب وہ دسویں گریڈ میں تھا تو اس کے والدین میں طلاق ہو گئی

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے علاقے ڈیلس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی نمائش پر فائرنگ میں ملوث ہلاک شدہ حملہ آور نادر صوفی کا لڑکپن پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں گزرا۔

اسلام آباد جہاں نادر صوفی نے تعلیم حاصل کی اُس کے اسکول کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اسکول میں مقبول بچہ تھا لیکن امریکہ میں اس کی زندگی شاید تلخ رہی ہو۔

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق نادر صوفی جب اسلام آباد کے ایک معروف اور مہنگے اسکول میں زیر تعلیم تھا تو وہ وہاں میں اپنی بذلہ سنجی کی وجہ سے ’گوفی‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔

اس نے اسکول میں ایک ڈرامہ ’’بائے بائے برڈی‘‘ کی پروڈکشن بھی کی تھی۔

نادر صوفی کے ایک ہم جماعت کے مطابق وہ لڑکیوں میں خاصا مقبول تھا، اس کی والدہ امریکی شہری تھیں لیکن جب وہ دسویں گریڈ میں تھا تو اس کے والدین میں طلاق ہو گئی اور صوفی اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گیا۔

امریکہ منتقلی کے بعد بھی بعض دوستوں سے اس کے رابطے رہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں اس کی زندگی سخت جدوجہد میں گزر رہی تھی۔

بعض دوستوں کے مطابق اس نے ڈینٹل اسکول میں داخلہ لیا لیکن مالی پریشانیوں کے باعث تعلیم مکمل نہ کر سکا۔ اس نے ڈرائی کلینر کی دکان کھولی اور کئی دیگر کام کیے لیکن اُسے کامیابی نا ملی۔

صوفی کا ایک بچہ بھی ہے، جو ایک بوسنیائی خاتون سے ہے لیکن بیوی سے اس کا تعلق زیادہ دیر قائم نہیں رہا اس کے بعض دوستوں کے مطابق برسوں پہلے اس نے کہا تھا کہ یہاں زندگی بہت مشکل ہے۔

اطلاعات کے مطابق چند برس پہلے اس نے داڑھی رکھ لی تھی، اس کی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر آخری تصویر دھوپ سے بچاؤ کے چشمے پہنے ہوئے تھی، جس کے بعد دوستوں سے اس کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔

نادر صوفی نے اپنے ’روم میٹ‘ ایلٹن سمسن کے ساتھ مل کر ڈیلس میں اُس مقام پر فائرنگ کی جہاں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی نمائش ہو رہی تھی، تاہم کسی جانی نقصان سے پہلے پولیس نے فائرنگ کر کے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

خاکوں کی نمائش کا اہتمام نیویارک کی تنظیم ’’امریکن فریڈم ڈیفنس اینشیٹیو‘‘ نے کیا تھا۔ان کا موقف ہے وہ امریکہ میں آزادی اظہار رائے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس طرح کی تقریبات کو مسلمان توہین مذہب سے تعبیر کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام کے خاکوں کی نمائش کی تیاریاں ڈیلس میں گزشتہ چار ماہ سے جاری تھیں، لیکن مسلمان رہنماؤں نے اس پر کوئی ردعمل نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور لوگوں سے پرامن رہنے اور تقریب کو نظرانداز کرنے کی اپیل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG