رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: خاتون پولیس اہلکار کو سیاہ فام کے قتل کے جرم میں 10 سال قید


فائل فوٹو

امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں پولیس کی ایک سابق خاتون افسر کو گزشتہ سال اپنے ایک غیر مسلح پڑوسی کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی مجرم قرار دے کر 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

ریاست ٹیکساس کی ڈسٹرکٹ جج ٹیمی کیمپ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جیوری فیصلے تک پہنچ گئی ہے اور جیوری متفقہ طور پر مدعا علیہ امبر گائیگر کو قتل کا مجرم قرار دیتی ہے۔

مجرم گائیگر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ستمبر میں اپنے اپارٹمنٹ کی بجائے ایک دوسرے اپارٹمنٹ کو اپنا اپارٹمنٹ سمجھ کر اس میں داخل ہو گئی تھیں۔ جہاں انہوں نے ایک 26 سالہ نوجوان بوتھم جین کو یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ ان کے گھر میں گھس آنے والا کوئی غیر شخص تھا۔ اس پر گولی چلا دی جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔

کئیریبین جزیرے سے تعلق رکھنے والا بوتھم جین ایک اکاونٹنگ فرم میں کام کرتا تھا۔ گائیگر ان کے اپارٹمنٹ کی نچلی منزل میں رہتی تھی۔

گولی مارنے کے واقعے سے جین کے خاندان اور افریقی امریکی سرگرم کارکنوں میں یہ خدشات پائے جاتے تھے کہ گائیگر کو، جو کہ ایک سفید فام خاتون ہے، دوسرے پولیس افسروں کی طرح کوئی سزا دیے بغیر چھوڑ دیا جائے گا، جنہیں غیر مسلح سیاہ فام افراد کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنے پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔

بوتھم جین کے خاندان کے اٹارنی لی میرٹ کا کہنا تھا کہ یہ اس جانب ایک اشارہ ہے کہ اب یہاں حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ پولیس افسروں کو ان کے اقدامات پر ذمہ دار ٹھہرائے جانے کی شروعات ہو رہی ہے اور ہمارا خیال ہے کہ اس سے دنیا بھر میں پولیس کلچر میں تبدیلی کی شروعات ہو جائے گی۔

اپنا فیصلہ سنانے کے کچھ ہی گھنٹے بعد، جیوری نے مقدمے کی سزا کے مرحلے کی شہادت کی سماعت شروع کر دی۔

گائیگر کو فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG