رسائی کے لنکس

logo-print

دو پاکستانیوں سمیت سات طالبان اور دو ایرانیوں کے خلاف تعزیرات عائد


امریکی محکمہٴ خزانہ

دو طالبان جن کا پاکستان سے تعلق ہے اُن کے نام عبدالعزیز اور ابراہیم ہیں۔ عزیز منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث رہ چکا ہے اور طالبان کوئٹہ شوریٰ کے ساتھ منسلک رہا ہے؛ جب کہ ابراہیم پر طالبان کو تربیت فراہم کرنے کا الزام ہے

امریکہ اور خلیج کے چھ ملکی اتحاد، جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے، منگل کے روز نو افراد کے خلاف تعزیرات کا اعلان کیا، جو سرکش طالبان یا پھر اُن کے حامی و سہولت کار ہیں۔ اِن میں سے دو پاکستانی اور پانچ افغانی باغی طالبان ہیں، جب کہ دو کا تعلق سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس سے ہے۔

ٹررسٹ فائنانسنگ ٹارگیٹنگ سینٹر (ٹی ایف ٹی سی) نے کہا ہے کہ فہرست میں شامل دو ایرانی سپاہ انقلاب ایران کے ارکان ہیں؛ جنھیں شامل کرنے کا مقصد ایران کی جانب سے اختیار کردہ ’’علاقائی عدم استحکام کے رویے‘‘ کو روکنا، اور ’’ایران کے خلاف امریکی دباؤ کی شدت میں اضافہ لانا ہے‘‘۔

دو طالبان جن کا پاکستان سے تعلق ہے اُن کے نام عبدالعزیز اور ابراہیم ہیں۔ عزیز منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث رہ چکا ہے اور طالبان کوئٹہ شوریٰ کے ساتھ منسلک رہا ہے؛ جب کہ ابراہیم پر طالبان کو تربیت فراہم کرنے کا الزام ہے۔

امریکی محکمہٴ خزانہ پہلے ہی اُنھیں عالمی دہشت گرد قرار دے چکا ہے، جس اقدام کی بنیاد پر امریکہ اُن کے اثاثوں کو یا پھر امریکی تحویل میں اُن کی جائیداد منجمد کردے گا۔

ایک بیان میں امریکی وزیر خرانہ، اسٹیون منوچن نے کہا ہے کہ امریکی تعزیرات میں اُن طالبان ارکان کو ہدف بنایا گیا ہے جو افغانستان میں خودکش حملوں اور دیگر مہلک سرگرمیوں میں ملوث ہیں؛ ساتھ ہی اُن میں وہ ایرانی شامل ہیں ’’جو مادی اور مالی اعانت فراہم کرتے ہیں‘‘۔

اسٹیون منوچن نے کہا ہے کہ ’’ایران کی جانب سےطالبان کو دی جانے والی فوجی تربیت، مالی امداد اور اسلحہ فراہم کرنا اس بات کی غماز ہے کہ ایران علاقائی مداخلت اور دہشت گردی کی حمایت میں سریحاً ملوث ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’امریکہ اور ہمارے پارٹنر ایرانی حکومت کی جانب سے افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے عمل کو مزید برداشت نہیں کریں گے‘‘۔

فہرست میں بدنام طالبان عناصر بھی شامل ہیں، جن میں کئی ایک نے ایران سے ہتھیاروں کی کھیپ دہشت گرد تنظیم کو روانہ کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

’ٹی ایف ٹی سی‘ کو 2017ء میں تشکیل دیا گیا تھا تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کی نشاندہی کی جائے اور اُنہیں منتشر کیا جائے۔ اس ادارے کی سربراہی امریکہ اور سعودی عرب کے پاس ہے۔

منوچن اس ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورے پر تھے، جہاں وہ دہشت گردی کی مالی اعانت اور ایران کے خلاف آئندہ نافذ کی جانے والی پابندیوں کے طریقہٴ کار کا جائزہ لے رہے تھے۔ طالبان کے خلاف عائد کی گئی تعزیرات بھی دہشت گردی کی مالی اعانت کو ہدف بنانے والے مرکز ’ٹی ایف آی سی‘ کے سات ارکان کی جانب سے لگائی گئی ہیں۔ امریکہ خلیج کا یہ ادارہ دہشت گرد گروپوں کو مالی امداد روکنے کے کام پر مامور ہے۔

سعودی تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، ’ایس پی اے‘ نے خبر دی ہے کہ سعودی عرب اور بحرین نے منگل کے روز ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اور القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو اس فہرست میں شامل کیا ہے جس میں وہ افراد اور تنظیمیں شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی مالی معاونت کا شبہ ہے۔

طالبان سے متعلق اعلان سے قبل افغانستان میں تشدد کی ایک لہر جاری رہی ہے، جس کی شدت گذشتہ ہفتے ہونے والے ملک کے پارلیمانی انتخابات تک جاری رہی۔

جمعرات کے روز امریکی فوج کے برگیڈیئر جنرل جیفری سمائلی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملک کے جنوبی افغان صوبے قندھار میں ہونے والے حملے میں، جس میں پولیس سربراہ ہلاک ہوا، زخمی ہونے والے دو امریکیوں میں سے ایک دم توڑ گیا۔

حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے، جو بات افغان حکومت کے لیے ایک تباہ کُن بات تھی، جس حملے میں ملک کے حکمت عملی کے حامل اور ایک اہم صوبے کی سکیورٹی کمان پر ضرب لگائی گئی، جو باغیوں کی جانب سے چوٹی کے سربراہان کو ہدف بنانے کی استعداد کی مظہر ہے۔

امریکی محکمہٴ خزانہ کے مطابق، طالبان کے خلاف تعزیرات کے سلسلے میں ہدف بنائے جانے والے القدس فورس سے وابستہ ایرانی ہیں: محمد براہیم اوحدی اور اسماعیل رضوی۔ دیگر افراد ہیں عبداللہ صمد فاروقی، محمد داؤد مزمل ، عبدالرحیم منان، حافظ ماجد، صدر ابراہیم اور عبدالعزیز ہیں۔

امریکی محکمہٴ خرانہ نے نعیم باریچ کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی ہیں، جنھیں بین الاقوامی منشیات پر عائد پابندیوں کے حوالے سے 2012ء میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG