رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی بادشاہ کی میت محل میں منتقل، ملک میں سوگ


حکومت نے اعلان کیا تھا کہ تخت کے ولی عہد شہزادہ ماہاؤ چرا لونگ فوری طور پر امور شہناہیت سنبھالنا نہیں چاہتے ہیں۔

تھائی لینڈ کے بادشاہ پومی پن ادنیا دیچ کے انتقال پر پورا ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہت کے امور ریجنٹ کے ذریعے عبوری طور پر چلائے جائیں گے۔

پومی پن جمعرات کو 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ ایک عرصے سے مختلف امراض میں مبتلا تھے اور ان کی صحت خاصی خراب چلی آ رہی تھی۔

ہفتہ کو سیاہ ماتمی لباس میں ملبوس ہزاروں افراد کا رخ بنکاک میں گرینڈ پیلس کی طرف تھا جہاں وہ اپنے ہردلعزیز مرحوم بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جا رہے تھے۔ لیکن بوجوہ یہ کمپلیکس ہفتے کی صبح کو بند کر دیا گیا تھا۔

کمپلیکس کے باہر طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں اور یہ لوگ پومی پون کا آخری دیدار کرنے کے متمنی ہیں۔

حکومت نے اعلان کیا تھا کہ تخت کے ولی عہد شہزادہ ماہاؤ چرا لونگ فوری طور پر امور شہناہیت سنبھالنا نہیں چاہتے ہیں۔

نائب وزیراعظم ویسانو کریا نگام نے جمعہ کو دیر گئے ٹی وی پر آکر بتایا کہ بادشاہ سے مشاورت کرنے والی کونسل فی الوقت عبوری طور پر بادشاہت کے امور کی نگرانی کرے گی۔

اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان تو جاری نہیں کیا گیا لیکن کونسل کے 96 سالہ سربراہ پرم تنسولانودا نئے بادشاہ کی تاجپوشی تک امور کی نگرانی کریں گے۔

جمعہ کو بادشاہ کی میت کو ایک تابوت میں رکھ کر پورے اعزاز کے ساتھ سریراج اسپتال سے گرینڈ پیلس منتقل کیا گیا۔ اس دوران قافلے کی قیادت ولی عہد ماہاؤ چرا لونگ اور ان کی بہن ماہاؤ چکری سرین تھان کر رہے تھے۔ سڑک کے دونوں اطراف ہزاروں لوگ غمزدہ کھڑے تھے۔

پومی پون نے 1946ء میں تھائی لینڈ کی بادشاہت سنبھالی تھی اور وہ دنیا میں طویل ترین عرصے تک بادشاہ رہے۔

ملک میں ایک سال کے لیے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے کہ جب کہ بدھ عبادتگاہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ تک ہر روز مرحوم بادشاہ کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

مقامی ٹی وی چینلز نے اپنے معمول کے پروگرام معطل کر کے بادشاہ کی زندگی اور ان کے کام سے متعلق دستاویزی پروگرام نشر کرنا شروع کر دیے ہیں۔

تھائی لینڈ کی کابینہ نے تمام تفریحی مقامات سے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ تک کسی بھی طرح کے ہلے گلے سے اجتناب کریں جب کہ اطلاعات کے مطابق متعدد صوبوں میں سیاحوں کے لیے مخصوص تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

بنکاک میں سکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے کہ اور وزیراعظم پرائوت چان و چا نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ "دکھ کی اس گھڑی میں کسی کو بھی اس موقع سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے۔"

XS
SM
MD
LG