رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی رہنما کی جمہوریت کی واپسی کے معاملے پر صبر کی تلقین


نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پرایوٹ نے وائس آف امریکہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ تھائی عوام ’’دوسرے ممالک کی طرح جمہوریت چاہتے ہیں۔ ہم تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘‘

تھائی لینڈ کے وزیر اعظم پرایوٹ چن اوچا نے اصرار کیا ہے کہ وہ جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں اور اس معاملے پر صبر کی تلقین کریں گے کیونکہ پہلا مسودہ مسترد ہونے کے بعد نیا آئین تشکیل دیا جا رہا ہے۔

ریٹائرڈ جنرل پرایوٹ چن اوچا نے کہا کہ ’’تھائی جمہوریت کو اب بھی مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے چاہے آئیں کی بات ہو، الیکشن کے عمل کی بات ہو اور خصوصاً حکمرانی اور سیاستدان کس طرح سیاست میں آتے ہیں اس کی بات ہو۔‘‘

پرایوٹ نے فوجی بغاوت کے ذریعے سویلین حکومت سے مئی 2014 میں اقتدار قبضہ کر لیا تھا۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پرایوٹ نے وائس آف امریکہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ تھائی عوام ’’دوسرے ممالک کی طرح جمہوریت چاہتے ہیں۔ ہم تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘‘

ستمبر کے اوائل میں تھائی لینڈ کی قومی اصلاحاتی کونسل نے نئے آئین کے پہلے مسودے کو رائے شماری کے ذریعے مسترد کر دیا۔ نیا آئین پہلے آئین کی جگہ لینے کے لیے بنایا جا رہا ہے جسے فوج نے اقتدار پر قبضے کے بعد منسوخ کر دیا تھا۔

آئین کا نیا مسودہ اپریل تک متوقع ہے اور اگر یہ منظور ہو گیا تو پرایوٹ کے بقول ’’ذیلی قوانین‘‘ بنانے اور ملک میں ریفرینڈم اور پھر الیکشن کرانے میں مزید وقت لگے گا۔

فوجی حکام کے مطابق اس تاخیر سے فوجی حکومت میں کم از کم 2017 کے وسط تک توسیع کی جائے گی۔

’’لوگوں کو تشویش ہے کہ میں نے اس عمل میں توسیع کی ہے۔ میں نے اس میں توسیع نہیں کی۔ اگر یہ جلدی مکمل ہو سکتا ہے تو اسے ہو جانا چاہیئے۔ مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ اس سے امن قائم ہو گا یا نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس تاخیر نے امریکی کمپنیوں کو تھائی لینڈ میں کاروبار کرنے سے نہیں روکا۔

پرایوٹ نے انسانی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کے عزم کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ’’ماضی کی حکومتوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ شاید ان کے خیال میں یہ ٹھیک تھا۔‘‘

امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ پر اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال تھائی لینڈ جبری مشقت اور جنسی کاروبار کے لیے انسانی سمگلنگ کا ’’ماخذ، منزل اور راہداری‘‘ بنا رہا جبکہ جنسی کاروبار کے لیے انسانی سمگلنگ ’’ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

تھائی لینڈ میں لگ بھگ تیس سے چالیس لاکھ غیر اندراج شدہ محنت کش تارکین وطن موجود ہیں جس میں انسانی سمگلنگ کے متاثرین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان محنت کشوں کا کمرشل ماہی گیری اور اس سے متعلق صنعتوں اور فیکٹریوں اور گھروں میں استحصال کیا جاتا ہے۔

پرایوٹ نےکہ غیر اندراج شدہ تارکین وطن محنت کشوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ’’انہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ان کے لیے ملازمتیں نکالی جائیں۔‘‘

انہوں نے عوامی احتجاج پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر رکھی ہے کہ یہ ’’تنازع اور بدامنی پر اکسانے کو کم سے کم کرتی ہے۔‘‘ مگر پرایوٹ نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے تھائی لینڈ میں آزادی اظہار رائے پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں۔

مگر حکومت نے حال ہی میں عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کو کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومت چین کی طرز پر اس کے بقول قابل اعتراض مواد کے خلاف ایک فائر وال قائم چاہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG