رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی پولیس کی پسپائی پر مظاہرین کی اہم عمارتوں تک رسائی


مظاہرین کی پیش قدمی سے قبل پولیس نے ان عمارتوں کے باہر خاردار تاریں اور دیگر رکاوٹیں ہٹا دی تھیں۔ اس اقدام کو گزشتہ کئی روز سے جاری تصادم کے پُرتشدد واقعات کے بعد حکمتِ عملی میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مظاہرین حکومت اور پولیس کے صدر دفاتر کی عمارتوں تک پہنچ گئے ہیں کیوں کہ سکیورٹی فورسز نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے پسپائی اختیار کر لی تھی کہ وہ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتیں۔

حکومت مخالف مظاہرین کو منگل کو جن عمارتوں کے باہر کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا ان میں میٹروپولیٹن پولیس کی تنصیبات کے علاوہ ’گورنمنٹ ہاؤس‘ بھی شامل تھا، جہاں وزیرِ اعظم کا دفتر بھی واقع ہے۔

مظاہرین کی پیش قدمی سے قبل پولیس نے ان عمارتوں کے باہر خاردار تاریں اور دیگر رکاوٹیں ہٹا دی تھیں۔ اس اقدام کو گزشتہ کئی روز سے جاری تصادم کے پُرتشدد واقعات کے بعد حکمتِ عملی میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ پولیس آنسو گیس استعمال نہیں کرے گی اور تصادم سے گریز کرنے کی سرکاری حکمتِ عملی کے مطابق اہلکاروں کو پسپائی کی ہدایت کی گئی۔

وزیرِ اعظم ینگ لک شیناواترا نے پیر کو مظاہرین کے ان مطالبات کو مسترد کر دیا تھا کہ وہ مستعفی ہو کر اقتدار غیر منتخب کونسل کے حوالے کر دیں۔

تھائی وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ پولیس تشدد سے باز رہے گی، لیکن پیر کو مظاہرین کے خلاف پانی کی تیز دھار، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا گیا۔

احتجاجی مظاہروں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ 2010ء کے بعد ملک میں سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔
XS
SM
MD
LG