رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: مظاہرین فوج کے ہیڈکوارٹر میں گھس گئے


فوج کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ مظاہرین جمعہ کو فوج کے صدر دفتر کے احاطے میں زبردستی داخل ہو گئے اور وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت کے خاتمے میں فوج بھی مظاہرین کا ساتھ دے۔

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف جاری مظاہروں کے دوران احتجاج کرنے والے لگ بھگ ایک ہزار افراد دارالحکومت بنکاک میں فوج کے صدر دفتر میں داخل ہو گئے ہیں۔

مظاہرین وزیراعظم ینگ لک شیناواترا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فوج کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ مظاہرین جمعہ کو فوج کے صدر دفتر کے احاطے میں زبردستی داخل ہو گئے اور وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت کے خاتمے میں فوج بھی مظاہرین کا ساتھ دے۔

حزب مخالف نے دارالحکومت بنکاک میں اپنے مظاہروں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وزیراعظم ینگ لک مستعفی نہیں ہوتیں وہ ہر وزارت پر قبضہ کریں گے۔

وزیراعظم ینگ لک کے خلاف جمعرات کو تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تھی۔ پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے حق میں 297 جب کہ مخالفت میں 134 ووٹ پڑے۔

وزیراعظم ینگ لک مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

اُنھوں نے مظاہرین کو روکنے کے لیے کسی طرح کی طاقت کا استعمال نا کرنے کا بھی کہہ رکھا ہے۔

مظاہرین اب تک وزارت خزانہ و خارجہ پر قبضے کے علاوہ وزارت داخلہ و پولیس ہیڈ کوارٹرز کا گھیراؤ کر کے بجلی کی تاریں کاٹ چکے ہیں۔

ملک میں 2010ء میں ہونے والے مظاہروں کے بعد تھائی لینڈ میں یہ سب سے بڑا احتجاج ہے۔

ان مظاہروں کا آغاز چند ہفتے قبل اُس وقت ہوا جب وزیراعظم ینگ لک کے بھائی اور سابق وزیراعظم تھاکسن شیناواترا کی وطن واپسی پر اُن کی سزا کی معافی سے متعلق ایک بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

اس مسودہ قانون کے تحت سابق وزیراعظم کو بدعنوانی کے جرم میں سنائی گئی دو سال کی سزا معاف کی جانی تھی۔

لیکن اس قانون کو تھائی لینڈ کی سینیٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ ینگ لک 2011ء میں ملک کی وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں جب کہ اُن کے بھائی تھاکسن کی حکومت کا تختہ 2006 میں بدعنوانی کے الزامات کے باعث الٹ دیا گیا تھا۔

مسٹر تھاکسن جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ اپنے خلاف قائم مقدمات کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ یہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG