رسائی کے لنکس

logo-print

سکیورٹی آپریشن کے بعد سرخ پوشوں کا احتجاج ختم


تھائی لینڈ میں حکومت مخالف ”سرخ پوش“ مظاہرین نے تقریباً دو ماہ سے جاری احتجاج بدھ کے روز ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کے چار رہنماؤں نے یہ کہ کر خود کو پولیس کے حوالے کردیا کہ وہ مزید خون ریزی نہیں چاہتے۔

احتجاج ختم کرنے کے اعلان کے بعد بنکاک کے اس علاقے میں گرینیڈ کے دھماکوں کی آوزیں سنی گئیں اور دوفوجیوں اور ایک کینیڈین صحافی کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

اس سے قبل تھائی لینڈ کی حکومت نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز کامیاب کارروائی کر کے بنکاک کے کاروباری مرکز کو حکومت مخالف ہزاروں” سرخ پوش“ مظاہرین سے خالی کرالیا ہے ۔ اس کوشش میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے جن میں اٹلی کا ایک صحافی بھی شامل ہے۔

سکیورٹی دستوں کے آپریشن سے پہلے فوج کی بکتر بند گاڑیوں نے کارروائی کرکے بانس اور ٹائروں سے بنائے گئے اُس حصار کو مسمار کیا جو مظاہرین نے اپنے اردگرد قائم کر رکھا تھا۔ حکومت مخالف مظاہرین نے فوجی گاڑیوں کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اس حصار کو آگ لگا دی جس سے اٹھنے والے دھویں کے بادل بنکاک میں دور دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔

تھائی حکومت کے ایک ترجمان نے ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں اس آپریشن کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ ”سرخ پوش “مظاہرین کے کچھ قائدین علاقے سے فرار ہو گئے ہیں۔

مظاہرین نے کئی ہفتوں سے دارالحکومت کے مرکزی کاروباری حصے پر قضہ کر رکھا تھا اور وہ وزیر اعظم ابھیشت وجاجیوا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپوں میں کم از کم 40 افراد مارے جاچکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کو ہونے والے آپریشن کے دوران تین غیرملکی صحافی گولیا ں لگنے سے زخمی ہوگئے جن میں سے ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔

تھائی حکومت نے منگل کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا یا سینٹ کی ثالثی سے مظاہرین کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا ۔

XS
SM
MD
LG