رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: انتخابات میں تاخیر نہیں ہوگی، وزیراعظم


ینگ لگ شیناواترا نے کہا کہ’’میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں کے حقوق اہم ہیں۔ وہ اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کریں گے کہ ملک میں جمہوریت کس طرح آگے بڑھے۔‘‘

تھائی لینڈ حکومت نے جلد انتخابات کی تاخیر کے امکانات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے بائیکاٹ اور الیکشن کمیشن کی درخواست کے باوجود انتخابات منصوبے کے مطابق 2 فروری کو ہی ہوں گے۔

یہ اعلان وزیراعظم ینگ لک شیناواترا اور کابینہ کے اراکین کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ ینگ لک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

’’میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں کے حقوق اہم ہیں۔ وہ اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کریں گے کہ ملک میں جمہوریت کس طرح آگے بڑھے۔‘‘

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بدھ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا جو کہ دارالحکومت بنکاک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تیسرے روز منعقد کیا گیا۔ ان مظاہروں سے ملک میں سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

جیسا کہ توقع کی جارہی تھی سابق نائب وزیراعظم اور مظاہرین کی قیادت کرنے والے سیتھپ تھاؤگوسوبان نے انتخابات سے متعلق حکومت کے اعلان کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ اس وقت تک نہیں ہونے چاہئیں جب تک ینگ لک مستفی اور اصلاحات نا کی جائیں۔

’’مجھے نہیں معلوم آج کی ملاقات میں کون موجود تھا لیکن جوں کے توں قوانین اور قوائد و ضوابط کے تحت انتخابات لوگوں کو تسلیم نہیں ہیں کیونکہ ایسے انتخابات دھاندلی اور ووٹ خریدنے جیسے اقدامات کی ترویج کرتے ہیں۔ تو اس سے انتخابات غیر شفاف بن جاتے ہیں۔‘‘

دریں اثناء رات گئے تشدد کے چھوٹے پیمانے پر واقعات کی چند رپوٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

حکام کے مطابق شہر کے ایک تجارتی علاقے میں رات گئے کارروائی میں ایک مرد اور عورت معمولی زخمی ہوئے تھے۔

منگل کی رات حزب مخالف کے رہنما ابھیست ویجاجیوا کے گھر پر حملے کی بھی انتظامیہ تحقیقات کررہی ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے دھماکا خیز مواد ابھیست کے گھر پر پھینکا تھا۔

اس بدامنی کو پرامن احتجاج کے لیے بظاہر خطرہ تصور کیا جارہا ہے۔ مظاہرین وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔

ینگ لک نے منگل کو کہا تھا کہ بحیثیت وزیراعظم یہ ان کا آئینی فریضہ ہے کہ وہ اس عہدے پر رہیں اور صرف تعاون اور ان کے بقول بات چیت ہی سے ملک میں کئی مہینوں سے جاری سیاسی تعطل کا حل ممکن ہے۔

ابتدائی طور پر احتجاج کا مقصد بنکاک میں عام زندگی کو مفلوج کرنا اور متعدد سرکاری عمارات کو نا کھلنے دینا تھا لیکن شہر کے زیادہ تر حصوں میں کاروبار معمول کی طرح چل رہے ہیں اگرچہ کہ سڑکوں پر ٹریفک میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ مظاہرین نے متعدد اہم چوراہوں کو بند کر رکھا ہے۔

سیتھپ موجودہ حکومت کی جگہ ایک غیر منتخب ’’پیپلز کونسل‘‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کہ انتخابات سے پہلے اصلاحات کے ذریعے ’’بدعنوانی اور دولت کی سیاست‘‘ کو ختم کرے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ینگ لک کی جماعت کے آئندہ ہونے والے جلد انتخابات میں جیتے کے امکانات بہت واضح ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG