رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: بنکاک پر مظاہرین کا قبضہ برقرار، مذاکرات سے انکار


1992ء کے بعد سے یہ تھائی لینڈ میں سیاسی تشدد کا بدترین واقعہ ہے

بنکاک میں میں حکومت مخالف مظاہرین نے مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور وہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت کے ایک اہم مقام، کاروباری اور تاریخی طور پراہمیت کے علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ہفتے کےروز سپاہیوں اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم کے ایک روز بعد، جس میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے، اتوار کے روز بنکاک میں خاموشی رہی۔ تشدد اس وقت پھوٹا جب سپاہیوں نے مظاہرین کو ان کے ٹھکانوں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی۔

مظاہرین وزیر اعظم ابھیشیت وجے جیوا کے استعفی کے مطالبہ کررہے ہیں۔ مسٹر ابھیشیت نے ہفتے کی رات ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر تقریر کرتےہوئے تشدد کے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ استعفی نہیں دیں گے۔

مقامی میڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ریڈشرٹ تحریک کے مظاہرین پرزور دیا کہ وہ ان سے ملاقات کریں۔ مگر وہ اس سے انکار کرچکے ہیں۔

1992ء کے بعد سے یہ تھائی لینڈ میں سیاسی تشدد کا بدترین واقعہ تھا۔

ریڈشرٹس مظاہرین نئے انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم تھاکسن شنوترا کے حامی ہیں، جنہیں 2006ء میں ایک بغاوت میں برطرف کردیا گیاتھا۔ وہ کرپشن کے الزمات پر جیل کے سزا سے بچنے کے لیے تھائی لینڈ سے فرار ہوکر جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ وہ کرپشن کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

مسٹر تھاکسن نے بہت سے دیہاتیوں اور کم آمدنی والے افراد کی مدد کی تھی، جو ان کی واپسی کے لیے مظاہرے کررہے ہیں۔

مسٹر ابھیشیت نے کئی مہینوں تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد دسمبر 2008ء میں اقتدار سنبھالا تھا۔

XS
SM
MD
LG