رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: مظاہرین کی طرف احتجاج جاری رکھنے کا عزم، حکومت مخالف ویبب، ٹی وی، ریڈیو بند


پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے والے سات سرخ قمیص مظاہرین کی گرفتاری کا حکم

بنکاک میں حکومت کی طرف سے ہنگامی صورتِ حال کے اعلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت مخالف مظاہرین شہر کے مرکز میں پانچوں دن بھی ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں۔

’سرخ قمیصیں‘ نامی تحریک کے رہنماؤں نے جمعے کے روز ایک بڑا جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی یہ نہیں بتایا کہ یہ جلوس کہاں سے چلے گا اور کہاں ختم ہوگا۔

حکام نے حکومت مخالف مظاہرین سے منسلک ایک ٹیلی ویژن سٹیشن کو بھی بند کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت مخالف مواد براڈکاسٹ کرنے والے درجنوں ریڈیو سٹیشن اور ویب سائیٹوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

وزیرِ اعظم ابھیسیت وجے جایا نے بدھ کے روز اس وقت ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جب ’سرخ قمیصوں‘ کے ہزاروں کارکنوں نے تھائی پارلیمان پر دھاوا بول کر ارکانِ پارلیمان کو وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ سے سیکیورٹی اداروں کو یہ چھوٹ مل گئی ہے کہ وہ لوگوں کو بغیر فردِ جرم عائد کیے حراست میں رکھ سکتے ہیں اور بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کے ایک ترجمان نے بعد میں وضاحت کی کہ انتظامیہ مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال نہیں کرے گی۔

جمعرات کے روز ایک عدالت نے سات سرخ قمیص مظاہرین کی گرفتاری کا احکامات جاری کر دئے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں زبردستی گھس آئے تھے۔

اس بحران کی وجہ سے وزیرِ اعظم ابھیسیت کو آسیان کے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویت نام کا دورہ منسوخ کرنا پڑا ہے۔

XS
SM
MD
LG