رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی جنرل کے زخمی ہو جانے کے بعد بینکاک میں دھماکے


زخمی میجر جنرل کھاٹیہ سواسڈیپول کو ہسپتال لے جایا کا رہا ہے

تھائی لینڈ کے ایک جنرل کو گولی مار کر سخت زخمی کردیا گیا تھا جب کہ بینکاک میں حکومت مخالف مظاہرے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے۔ گولی چلنے کے واقعے کے بعد، ہفتے بھر سے جاری مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے، حکومت نے علاقے کو سیل کرنے کی دھمکی دے دی۔

سکیورٹی اہل کار زخمی میجر جنرل کھاٹیا سواز ڈیپول کو ہسپتال لے جاتے ہوئے چیخ چیخ کر صحافیوں اور موجود لوگوں کو راستے سے ہٹا رہے تھے۔

زخمی ہونے سے قبل جنرل کھاٹیا ، نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار سے باتیں کر رہے تھے۔ اُن کو زخمی حالت میں لے جانے کے چند منٹوں کے بعد زبردست دھماکے سنے گئے اور مظاہرین جنھیں ریڈ شرٹس کہا جاتا ہے منتشر ہوگئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ فوج نے یہ گرینیڈ پھینکے ہیں۔

تاہم، مظاہرین کے إِس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی جب کہ دوسری طرف حکام نے ٕمظاہرین پر الزام لگایا ہے کہ اُن کے پاس بندوقیں اور گرینیڈز ہیں۔ مظاہرے کے دوران فائرنگ کے ساتھ ساتھ پٹاخے بھی داغے جارہے تھے۔

بعض مظاہرین نے اشتعال میں آکر بڑے بڑے سائن بورڈ توڑ ڈالے، دوسری طرف سکیورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کا زور توڑنے کے لیے پانی، بجلی اور ٹیلی فون کے کنیکشن کاٹ دیے۔

زخمی ہونے والے جنرل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کی شدت سے حمایت کر رہے تھے اور اُن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ نیم فوجی دستے بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

احتجاج کی حمایت کی وجہ سے اُن کومتعطل کردیا گیا تھا اور اُن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG