رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: حکومت اور مسلمان باغیوں کے درمیان مذاکرات


مذاکرات کا مقصد تھائی لینڈ کے مسلم اکثریتی جنوبی علاقے میں برسہا برس سے جاری علیحدگی پسند تحریک کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کا خاتمہ ہے۔

تھائی لینڈ میں سرگرم علیحدگی پسند مسلمان باغیوں اور تھائی حکومت کے نمائندوں کے مابین غیر رسمی امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔

ملائیشیا کی میزبانی میں کوالالمپور میں ہونے والے ان مذاکرات کے لیے گزشتہ کئی ماہ سے تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی حکومتوں کے درمیان پسِ پردہ سفارت کاری جاری تھی۔

مذاکرات کا مقصد تھائی لینڈ کے جنوبی علاقوں میں برسہا برس سے جاری علیحدگی پسند تحریک کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کا خاتمہ ہے۔

مذاکرات کرنے والے 15 رکنی تھائی وفد میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے بھی شامل ہیں جنہوں نے جمعرات کو مسلمان باغیوں کی نو مختلف تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کی۔

بات چیت سے قبل تھائی وفد کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری پرادان پتن ناتھبتر نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کا ابتدائی مقصد شورش کا شکار صوبوں میں جاری تشدد میں کمی لانا ہے۔

سنہ 2004 میں جنوبی علاقوں میں مسلمان بغاوت میں دوبارہ شدت آنے کے بعد سے تھائی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کا یہ پہلا موقع ہے۔ حالیہ تشدد کے نتیجے میں اب تک چار ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

تھائی لینڈ کی بیشتر آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے لیکن جنوبی صوبوں یالا، پتن اور نراتھیوت میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ تھائی لینڈ نے اس علاقے پر 1902ء میں قبضہ کیا تھا جس سے پہلے یہ مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا کا حصہ تھا۔

اطلاعات ہیں کہ باغیوں نے علاقے سے تھائی فوجی دستوں کے انخلا، جنگجووں کے لیے عام معافی کے اعلان اور مسلم اکثریتی صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینے کے مطالبات پیش کیے ہیں۔

علاقے میں تھائی لینڈ کے 60 ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں اور تھائی فوج ماضی میں علاقے سے انخلا کے مطالبات مسترد کرتی آئی ہے۔
XS
SM
MD
LG