رسائی کے لنکس

logo-print

تھرکول پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار شروع


تھر کول پاور پلانٹ، فائل فوٹو

پاکستان میں سندھ کے علاقے تھر میں کوئلہ سے بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ ابتدائی طور پر 330 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی گئی ہے۔

اس منصوبہ کے مطابق سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی، چائنا انٹرنیشنل ہولڈنگ لمیٹڈ اور سائنو سندھ ریسورسز کے درمیان سندھ میں تھر کے کوئلہ سے 6 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔

اینگرو کول مائنز کمپنی کے مطابق تھر کے 21 ہزارمربع کلو میٹر رقبے میں سے 9300 مربع کلو میٹر میں کوئلہ موجود ہے۔ یہاں پائے جانے والے 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر دنیا کا چوتھا بڑا ذخیرہ ہیں۔ اس کے صرف بلاک 2 میں کوئلے کی مقدار 2 ارب ٹن ہے۔

اینگرو کول مائنز کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی دن ہے جب تھر کول سے بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ کوئلے سے بجلی بنانے کا ہدف 3 ماہ قبل ہی حاصل کر لیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر 330 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل کی گئی ہے۔ بعد ازاں بجلی کی پیداوار کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔

اینگرو پاور تھر لمیٹڈ سالانہ 3.8 میگا ٹن کوئلہ استعمال کرے گی جو اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ اینگرو انرجی نے کوئلے کی مائننگ اور بجلی کی پیداوار سے سالانہ 1.6 ارب ڈالر کے زرمبادلہ بچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس کامیابی پر اپنے پیغام کہا ہے کہ پاکستان کے لئے آج تاریخی دن ہے۔ سندھ پاکستان کو توانائی کی سیکورٹی کی راہ پر لے کر جا رہا ہے۔

تھرکول منصوبے کی تکمیل سے چار روپے فی یونٹ بجلی حاصل ہو گی۔

تھر میں 1991 میں یہ کوئلہ دریافت ہوا تھا۔ یہ ذخائر، سعودی عرب اور ایران کے مجموعی تیل کے ذخائر کے برابر ہیں اور اس کوئلے سے دو سو سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے، جو پاکستان کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان بھر میں کوئلے کے مجموعی ذخائر 186 ارب ٹن ہیں، جن میں سے 175 ارب ٹن تھر میں ہیں اور یہ پاکستان کے کُل گیس کے ذخائر سے 68 فی صد زیادہ ہیں۔

دنیا کے ایسے ملکوں میں، جہاں تھر کی طرح لیگنائٹ ملتا ہے، پاکستان کا نمبر ساتواں ہے۔ عالمی سطح پر کوئلے کے ذخائر میں اس کا 16 واں نمبر ہے۔

دنیا بھر میں 39 فی صد بجلی اب بھی کوئلے ہی سے پیدا کی جا رہی ہے، لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ بجلی تیل پر بنائی جا رہی ہے، جو سب سے مہنگا ذریعہ ہے۔

کوئلے کے ذریعے بجلی بنانے پر مختلف عالمی ماحولیاتی ادارے تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئلہ سے کول پاور پلانٹ ماحولیات پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان توانائی کی شدید قلت کے باعث ان اعتراضات کے باوجود اس منصوبہ پر کام کر رہا ہے۔

سابق سیکرٹری پیٹرولیم فرخ قیوم نے وائس آف امریکہ سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں پائے جانے والا کوئلہ لیگنیائٹ ہے جسے سرنگ کی بجائے مکمل کھدائی سے حاصل کیا جاتا ہے۔

بھارت میں عرصہ دراز سے کوئلے بجلی بنائی جا رہی ہے لیکن پاکستان میں اس سے متعلق کام 2006 کے بعد شروع ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ دس پندرہ سال پہلے شروع کیا جاتا تو پاکستان کا ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کافی حد تک کم ہو جاتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کوئلہ کی صفائی کے بعد بچنے والا مواد بہت زہریلا اور ماحولیات کے لیے خطرناک ہوتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تھرکول کی آمدنی کا ایک حصہ ماحولیات کی بہتری کے لیے مختص کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG