رسائی کے لنکس

logo-print

تھر کی صورتحال پر متحدہ اور پیپلز پارٹی کے درمیان لفظی جنگ


صوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ تاہم، اس صورتحال پر سندھ کی ایک اور بااثر جماعت، متحدہ قومی موومنٹ نے پی پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے۔ روز روز ہونے والی لفظوں کی جنگ نے دونوں جماعتوں کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کردی ہے

کراچی ۔۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کا صحرائی علاقہ تھر ایک بار پھر قحط سالی کی لپیٹ میں ہے۔ صوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ تاہم، اس صورتحال پر سندھ کی ایک اور با اثر جماعت، متحدہ قومی موومنٹ نے پی پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے۔

روز روز ہونے والی لفظوں کی جنگ نے دونوں جماعتوں کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کردی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ تھر میں ہونے والی اموات کا ذمے دار متحدہ کو ٹھہراتے ہیں۔ مٹھی میں کابینہ اجلاس کے بعد ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں اُنھوں نے اس کا الزام لگایا۔

بقول اُن کے، پچھلے 20 سالوں سے صحت کی صوبائی وزارت ایم کیوایم کے رہنما، ڈاکٹر صغیر احمد کے پاس تھی۔ اگر وہ اس دور میں تھر کو نظر انداز نہ کرتے تو آج یہ صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی۔

وزیر اعلیٰ کے بقول، چونکہ اب متحدہ حکومت سے علیحدہ ہوچکی ہے اس لئے وہ حکومت مخالف بیانات دے رہی ہے۔

اگلے ہی روز، سندھ اسمبلی کے باہر مشترکہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے ارکان، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن اور ڈاکٹر صغیراحمد نے سندھ حکومت کی مبینہ بدانتظامی کو تھر کی موجودہ صورتحال کا ذمے دار قرار دیا۔

متحدہ کے رہنما فیصل سبزواری نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اہم محکموں کی وزارتیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں، جن پر من پسند افراد کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کراچی کا بجٹ 48 ارب روپے سے صرف چھ ارب کرنے پر بھی وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ساتھ ہی، انہوں نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمے دار بھی حکومت ہی کو ٹھہرایا۔

روزنامہ ’ایکسپریس ٹریبیون‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم ہی کے ایک اور رہنما خواجہ اظہار الحسن کا الزام ہے کہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص لاکھوں کی رقم حکومت نے مبینہ طور پر پارٹی رہنماوٴں اور بیوروکریٹس پر ’ضائع کر دی ہے‘۔

XS
SM
MD
LG