رسائی کے لنکس

logo-print

تھر میں ماں اور بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کا ایک منفرد پراجیکٹ


صحرائے تھر کی ایک بستی میں لگائے جانے والے نلکے سے خواتین پانی بھر رہی ہیں۔ اس سے قبل انہیں پانی کے لیے میلوں دور جانا پڑتا تھا۔

تھر کے صحرا میں آباد خواتین غربت و افلاس، سخت جسمانی مشقت اور غذا کی قلت کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہیں۔ لیکن، اس کے باوجود، ایک اندازے کے مطابق، وہ سات سے دس بچوں کو جنم دیتی ہیں، جن میں سے بہت سے غذائی قلت اور ناصاف پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور صحت اور طبی علاج کے فقدان کے سبب پانچ سال کی عمر تک پہنچنے تک اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

صحرائے تھر کے مکینوں خاص طور پر خواتین کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لانے اور تھر میں ماں اور بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کے لئے ایک منفرد انداز سے کام کرنے والے ایک ادارے، حسن فاؤنڈیشن کے بانی اور مشی گن میں آباد ایک کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر مختار خان کا کہنا ہے کہ اگر تھر کی خواتین کو روزانہ میلوں دور سے کئی کئی مٹکوں میں پانی لانے کی مشقت کو کم کر دیا جائے تو اس سے تھر میں ماں اور بچے کی شرح اموات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

گزشتہ دنوں ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں ڈاکٹر مختار نے تھر کی عورتوں کی زندگی میں پانی بھرنے کی مشقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ تھر کی خواتین کو پانی بھرنے کی مشقت سے بچانے کے لیے ان کے گھروں کے قریب پانی کے نلکے مفت نصب کرنے میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر کی ان خواتین کو روزانہ ایک آدھ روٹی اور لسی کے چند گلاس یا جو مزید کچھ معمولی سی خوراک دستیاب ہوتی ہے اس سے وہ زیادہ سے زیادہ بارہ سو کیلوریز حاصل کر پاتی ہیں۔ اور ان کیلوریز میں سے کم از کم دو سو سے تین سو کیلوریز تو صرف اس مشقت میں خرچ ہو جاتی ہیں جو وہ روزانہ میلوں دور سروں پر پانی کے بھاری مٹکے رکھ کر ننگے پاؤں پیدل پانی لانے کے لیے کرتی ہیں۔

ڈاکٹر مختار نے کہا کہ مشقت بھری اور خوراک اور غذائیت کی قلت کی شکار یہاں کی عورتوں کے بچوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مستند اعداد و شمار تو کہیں دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ یہاں کی عورتیں کم از کم سات سے گیارہ بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ تھر کی یہ کمزور مائیں کمزور بچوں کو جنم دیتی ہیں اور یہاں پیدا ہونے والےلگ بھگ 49 فیصد بچے انڈر ویٹ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق تھر کا علاقہ دنیا کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں سے تیس فیصد پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے چل بستے ہیں۔اور یہاں زچگی کے دوران یا بعد میں عورتوں کے شرح اموات بھی بہت زیادہ ہے۔

ڈاکٹر مختار ، حسن فاؤنڈیشن
ڈاکٹر مختار ، حسن فاؤنڈیشن

ڈاکٹر مختار خان کا موقف تھا کہ اگر تھر کی خواتین کی زندگی سے روزانہ پانی بھرنے کی مشقت ختم کر دی جائے تو ان کی روزانہ کی حاصل شدہ دو تین سو کیلوریز بچا کر ان کی صحت کو قدرے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اور حسن فاؤنڈیشن تھر کے تمام دیہاتوں میں گھروں کے قریب پانی کے پمپس نصب کروا کر ان کی زندگیوں سے اسی مشقت کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ تھر کے ڈھائی تین ہزار دیہاتوں میں سے تقریباً سات سو دیہاتوں میں ان خواتین کو ان کے گھروں کے قریب پانی کے پمپ لگوا کر دے چکا ہے۔ اور اگلے تین سال میں وہ تھر کے تمام دیہاتوں کی خواتین کو ان کے گھروں کے قریب پانی کے پمپ فراہم کرنے کا اپنا ہدف پورا کر لے گا، جس سے ان کی زندگیوں سے پانی کی مشقت سے صرف ہونے والی دو تین سو کیلوریز کی بچت ہوگی جب کہ پمپس سے پانی بھرنے کے دوران ضائع ہونےوالے پانی کو محفوظ کرکے گھروں کے پاس کاشت کی جانے والی سبزیاں ان کی خوراک میں شامل ہونے سے ان کی صحت کچھ بہتر ہوسکے گی۔ اور یہ سب عوامل مل کر آخر کار تھر میں خواتین اور بچوں کی شرح اموات کم کرنے میں کچھ مدد کر سکیں گے۔

ڈاکٹر حسن خان نے کہا کہ ان کا ادارہ، حسن فاؤنڈیشن اس وقت تھر میں ہر روز دو نلکے نصب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حسن فاؤنڈیشن کا بنیادی مشن تو تھر کی خواتین کی زندگیوں سے پانی بھرنے کی مشقت کا خاتمہ ہے، لیکن اس مشن کے ذریعے اگر تھر کی خواتین کی زندگی سے میلوں دور سے روزانہ پانی بھرنے کی مشقت ختم ہوگئی تو اس سے نہ صرف ان کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی، بلکہ تھر کے علاقے میں آخر کار ماں اور بچے کی شرح اموات میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG