رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی سطح پر عورتوں کی اوسط عمر اور تعلیم میں اضافہ: اقوام متحدہ


اقوام متحدہ کے شماریات کے ڈویژن کی طرف سے مرتب کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر عورتوں کی متوقع عمر 64 سے بڑھ کر 72 سال ہو گئی ہے جبکہ مردوں کی متوقع عمر 68 برس ہے جو پہلے 60 تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ عالمی سطح پر عورتوں کی اوسط متوقع عمر میں اضافہ ہوا ہے اور پچھلے دو عشروں کی نسبت آج زیادہ عورتیں تعلیم یافتہ ہیں تاہم خواتین پر تشدد اور صنفی مساوات کی صورت حال میں ابھی تک واضح بہتری نہیں آئی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والی 'ورلڈز وومن 2015ء رپورٹ' میں صنفی مساوات کی طرف پیش رفت کا اندازا لگایا گیا ہےجبکہ بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو عشروں میں ترقی کے باوجود عالمی مساوات کے لیے عورتوں کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے شماریات کے ڈویژن کی طرف سے مرتب کی جانے والی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ عالمی سطح پر عورتوں کی متوقع عمر 64 سے بڑھ کر 72 سال ہو گئی ہے جبکہ مردوں کی متوقع عمر68 برس ہے، جو پہلے 60 سال تھی۔

پانچ سالہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی ناخواندہ بالغان میں سے آج بھی دو تہائی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے علاوہ ازیں، عورتیں دنیا کے تمام ممالک میں ناخواندہ آبادی کے نصف سے زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ملینیم اہداف کے حصول کی کوششوں سے لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے مواقعوں کو بہتر کیا گیا ہے لیکن، اس کے باوجود اندازا 5.8 کروڑ پرائمری عمر کے بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں 3.1 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اسی طرح65 برس سے زائد عمر کی 30 فیصد عورتیں ان پڑھ ہیں۔

سیکنڈری اسکول کے بعد کی تعلیم میں عورتوں کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے اور تمام ترقی یافتہ ممالک اور تقریباً نصف ترقی پذیر ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے عورتوں کی شمولیت مردوں سے زیادہ رہی۔

اقوام متحدہ کی چھٹی وومن جائزہ رپورٹ کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ کم عمری کی شادی یعنی اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے مسئلے میں زیادہ بہتری نہیں آئی تاہم 1995ء میں یہ شرح 31 فیصد تھی جبکہ 2010ء میں 26 فیصد لڑکیاں اس روایت کا شکار ہوئیں۔

نتائج میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں عورتیں اب بھی مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہوں پر ملازمت کرتی ہیں اور مردوں کی کمائی کا تقریباً 70 سے 90 فیصد کے درمیان کماتی ہیں۔

عالمی سطح پر زچگی کی اموات کی شرح میں 1990ء سے 1913ء تک مجموعی طور پر 45 فیصد کمی واقع ہوئی ہے البتہ، جنوبی ایشیا اور صحارا افریقہ میں اب بھی یہ شرح زیادہ ہے۔

دریں اثناء پچھلے دو عشروں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شادی قدرے زیادہ عمر میں ہو رہی ہے اور ان میں بچپنے کی اموات کا امکان بھی کم ہے اسی طرح بچوں کی پیدائش کی شرح بھی گری ہے جبکہ مجموعی طور پر عورتوں کی زرخیزی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد اب بھی دنیا میں ہر جگہ موجود ہے اور یہ ایک عالمی تشویش ہے۔

102 ممالک سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے تجزیے پر مبنی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک عورت کو زندگی کے کسی بھی موقع پر جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے تقریباً دو تہائی کو خاندان یا شوہر کے ہاتھوں موت کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے محققین نے 70 ممالک کے اعداد و شمار دیکھے، جن سے پتا چلا کہ 40 فیصد سے کچھ کم عورتوں نے تشدد کےخلاف اپنی خاموشی توڑی اور اس کا ذکر اپنے خاندان یا دوستوں سے کیا لیکن 10 فیصد سے بھی کم عورتیں اپنے ساتھ ہونے والےظلم کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتی ہیں۔

تاہم نتائج سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ تشدد کی روک تھام کے رویوں میں اضافہ ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بیداری عام ہوئی ہے اب عورتوں میں شوہر کی طرف سے مار پیٹ سہنے کا رویہ بدلا ہے۔

کم از کم 119 ممالک میں گھریلو تشدد پر قوانین کا اطلاق ہوا ہے۔ اسی طرح 125 ممالک میں جنسی ہراساں کرنے کے معاملے پر قوانین وضع کیے گئے جبکہ 52 ممالک میں ازدواجی عصمت دری پر قوانین موجود ہیں۔

اسی طرح زچگی اور خاندانی فوائد سے متعلقہ قانون سازی کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جیسا کہ لگ بھگ نصف ممالک میں زچگی کی 14 ہفتوں کی چھٹیاں ہیں لیکن اکثر زراعت اور گھریلو کام کاج کرنے والی کارکن خواتین اس سے خارج ہیں۔

نتائج میں کہا گیا ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کو خاص طور پر بلوغت کے سالوں میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا ان میں حمل کی پیچیدگیاں، پسماندہ صحت، جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں، فیصلہ سازی کے اختیارات کی کمی، غیر محفوظ اسقاط کا خطرہ زیادہ تھا۔

ہر تین میں سے ایک شادی شدہ عورت کو گھر کے سامان کی خریداری کرنے کا اختیار نہیں تھا، اسی طرح تین چوتھائی عورتیں اپنے گھروں کو روزگار فراہم کرتی ہیں اور شوہر اور بچوں کی کفالت کرتی ہیں جبکہ ایسے خاندان واحد والدین کے گھرانوں کی طرح غربت کی زندگی جی رہے تھے۔

رپورٹ کے نتائج میں محقق فرانچیسکا گرام نے عالمی سطح پر عورتوں کی خواندگی کی شرح کو بہتر کرنے اور 2030ء تک عدم مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں کو مرکز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ عورتیں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG